اسلام آباد: ایشین ڈیولپمنٹ بینک پاکستان ریلوے کی مین لائن ون کے کراچی سے روہڑی تک حصے کی جدید کاری کے لیے 1.1 ارب ڈالر کے کثیر مرحلہ سرمایہ کاری پروگرام کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد پاکستان کے مرکزی مسافر اور مال بردار ریلوے کوریڈور پر حفاظت، رفتار، آپریشنل کارکردگی اور موسمیاتی مزاحمت بہتر بنانا ہے۔

ڈان کے مطابق مجوزہ پروگرام تقریباً 480 کلومیٹر کراچی-روہڑی سیکشن کا احاطہ کرے گا۔ اس میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی و بہتری، سگنلنگ اور آپریشنز کی جدید کاری، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور انتظامی اصلاحات کے اقدامات شامل ہوں گے۔ اے ڈی بی کے منصوبہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اپ گریڈ کے ذریعے قومی اور علاقائی رابطہ، لاجسٹکس کی کارکردگی اور اقتصادی مسابقت بہتر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

سرمایہ کاری کے مالی ڈھانچے کے مطابق ایک ارب ڈالر اے ڈی بی کے عام سرمایہ وسائل سے اور 100 ملین ڈالر رعایتی عام سرمایہ قرض سے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ بینک جنوری 2027 میں ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جو وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات کا جائزہ لے گا۔ یہ مشن ماحولیاتی اور سماجی اثرات، محنت و روزگار کے حالات، زمین کے حصول، آلودگی کے تدارک، حیاتیاتی تنوع، ثقافتی ورثے اور موسمیاتی خطرات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔

اے ڈی بی پہلے ہی 2025 میں منظور شدہ پراجیکٹ ریڈینس فنانسنگ کے ذریعے ایم ایل ون کی تیاری میں معاونت کر رہا ہے۔ اب زیر غور کثیر مرحلہ فنانسنگ کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت اور گورننس اصلاحات کو بھی جوڑنے کی تجویز ہے۔ اس کا مقصد صرف پٹری یا سگنلنگ کی تعمیر نہیں بلکہ پاکستان ریلوے کے آپریشنل نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانا بھی ہے۔

ریلوے وزیر حنیف عباسی نے حالیہ ملاقات میں اے ڈی بی حکام کو بتایا تھا کہ کراچی-روہڑی ایم ایل ون اپ گریڈ کی مجموعی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر لگائی گئی ہے اور حکومت اسے تین سال میں مکمل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کے مطابق 183 کلومیٹر نواب شاہ-روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیاد پر لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے باقی روہڑی-پشاور حصوں کے لیے بھی اے ڈی بی اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

مجوزہ 1.1 ارب ڈالر پروگرام ابھی حتمی منظوری اور تفصیلی جانچ کے مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے فنڈز کے اجرا اور تعمیراتی شیڈول کی حتمی شکل بعد کی منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ تاہم اے ڈی بی کی تیاری اور جنوری کے مجوزہ مشن سے منصوبے کی مالی و تکنیکی ساخت مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔