ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے مین لائن-1 ریلوے اپ گریڈیشن منصوبے کو اہم فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور اے ڈی بی کے صدر مساتو کاندا کی ملاقات میں سامنے آئی، جو اولان باتر میں 25ویں کیریک وزارتی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔

Geo News کے مطابق احسن اقبال نے ملاقات میں ایم ایل-1 کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچایا کہ منصوبے سے متعلق ضروری طریقۂ کار اور تیاریوں کو تیز کیا جائے تاکہ سنگِ بنیاد رکھنے کا مرحلہ جلد شروع ہو سکے۔ اے ڈی بی صدر نے جواب میں کہا کہ بینک ایم ایل-1 کو ایک اہم منصوبہ سمجھتا ہے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ممکنہ تعاون فراہم کرے گا۔

ایم ایل-1 پاکستان ریلوے کے بنیادی شمال-جنوب ریل کوریڈور کی اپ گریڈیشن سے متعلق بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے۔ منصوبے کی پیش رفت کئی برس سے مالیاتی بندوبست، ڈیزائن، مرحلہ وار تعمیر اور بین الاقوامی شراکت داری کے معاملات سے منسلک رہی ہے۔ حالیہ ملاقات میں کسی نئی حتمی قرض رقم، معاہدے یا تعمیر شروع ہونے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اے ڈی بی کی یقین دہانی کو پالیسی اور ادارہ جاتی تعاون کی سطح کی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی فنانسنگ بھی زیرِ بحث آئے۔ احسن اقبال نے ان ممالک کے لیے الگ مالیاتی ونڈو بنانے کی تجویز دی جو عالمی اخراج میں نسبتاً کم حصہ ڈالتے ہیں لیکن موسمیاتی خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے جدید ڈیٹا نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے خطرات کی نقشہ بندی اور فنڈز کو زیادہ مؤثر انداز میں ہدف بنانے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وزیر نے کیریک ممالک کے لیے علاقائی رابطوں، اہم معدنیات کی سرمایہ کاری اور ویلیو چینز کے فروغ کی تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسطی ایشیا کی اہم معدنیات کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے جنوبی دروازے کا کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کو ریل اور سڑک نیٹ ورکس کے ذریعے جوڑنے سے گوادر بندرگاہ تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔

دونوں فریقوں نے برآمدات کے فروغ کے لیے مشترکہ مطالعات، مصنوعات اور منڈیوں کے خلا کی نشاندہی اور سیلابی پانی کے بہتر ذخیرے و استعمال پر تحقیق کے امکانات پر بھی اتفاق کیا۔ اے ڈی بی صدر نے انفراسٹرکچر، انسانی سرمایہ، پالیسی تسلسل اور اصلاحات کو پاکستان کی ترقی کے اہم شعبے قرار دیا۔

حالیہ رابطے سے ایم ایل-1 کے لیے بین الاقوامی مالیاتی شراکت داری کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے، تاہم منصوبے کی اصل رفتار کا انحصار مالیاتی ساخت، تکنیکی منظوریوں، خریداری کے طریقۂ کار اور پاکستان و شراکت دار اداروں کے درمیان باضابطہ معاہدوں پر ہوگا۔ اس مرحلے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی اہم سفارتی و ترقیاتی پیش رفت ہے، لیکن اسے حتمی فنانسنگ یا فوری تعمیر کے آغاز کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔