اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنے تازہ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک میں مالی سال 2027 کے دوران پاکستان کی حقیقی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے، جو حکومت کے 4 فیصد ہدف سے کم ہے۔ رپورٹ میں اسی مالی سال کے لیے مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دیرپا اثرات، توانائی اور پیداواری لاگت میں اضافہ، عالمی مالی حالات کی سختی، ٹیکس وصولیوں میں ممکنہ کمی، موسمیاتی جھٹکے اور ساختی اصلاحات میں تاخیر معاشی منظرنامے کے اہم خطرات ہیں۔ بینک نے کہا کہ عالمی توانائی سپلائی میں خلل کے باعث مالی سال کے پہلے نصف میں مقامی ایندھن اور لاجسٹکس کی لاگت بلند رہ سکتی ہے، جبکہ کھاد کی عالمی قیمتوں میں اضافہ زرعی لاگت اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی سرگرمی میں بہتری اور درآمدی لاگت بڑھنے سے شرح مبادلہ پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے درآمدی مہنگائی کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اے ڈی بی نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ داخلی طلب کی بحالی اور عالمی توانائی منڈی کی رکاوٹوں کے باعث جاری کھاتے کا خسارہ وسیع ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف چاول کی برآمدات میں بحالی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی مضبوطی برآمدی آمدن کے لیے معاون عوامل قرار دیے گئے ہیں۔
اے ڈی بی کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں معاشی استحکام، بیرونی ذخائر اور مارکیٹ اعتماد میں بہتری آئی ہے، تاہم زیادہ پائیدار اور جامع نمو کے لیے اصلاحاتی رفتار برقرار رکھنا اہم ہوگا۔ رپورٹ میں ٹیکس انتظامیہ، اخراجات کی کارکردگی، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں اور ٹیرف پالیسی میں اصلاحات کو درمیانی مدت کی نمو سے جوڑا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار پیش گوئیاں ہیں، حتمی نتائج نہیں۔ عالمی توانائی قیمتوں، علاقائی تنازع، موسم، مالی پالیسی اور اصلاحات کے نفاذ میں تبدیلی سے مالی سال کے دوران اصل شرح نمو اور مہنگائی ان تخمینوں سے مختلف ہو سکتی ہے۔

