اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے، جو وفاقی حکومت کے بجٹ میں مقرر کردہ 4 فیصد ہدف سے کم ہے۔ بینک کے ستمبر 2026 کے ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک سے متعلق تازہ اعداد و شمار اور رپورٹنگ کے مطابق مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا امکان بھی برقرار ہے اور اوسط افراط زر 8.3 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026 میں بھی تقریباً 3.7 فیصد نمو دکھائی۔ موجودہ مالی سال میں سرمایہ کاری اور اصلاحاتی پروگرام کچھ سہارا فراہم کر سکتے ہیں، تاہم بلند توانائی لاگت، رسد اور نقل و حمل کے اخراجات اور بیرونی غیر یقینی صورتحال معاشی رفتار کو محدود کر سکتی ہے۔ بینک نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام پر عمل درآمد، عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی اور حالیہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتری کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے معاون عوامل قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نجی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال میں حقیقی بنیادوں پر بڑھی اور صنعتی خام مال پر ٹیرف میں کمی سمیت بعض پالیسی اقدامات سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی توانائی قیمتوں کا بلند رہنا گھرانوں کی حقیقی آمدن اور کھپت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مینوفیکچرنگ کے لیے توانائی کی لاگت بھی ایک اہم خطرہ ہے، جبکہ خدمات کے شعبے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات سے نسبتاً بہتر کارکردگی کی توقع کی گئی ہے۔
اے ڈی بی نے اوسط مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی، لاجسٹکس اور زرعی ان پٹ کی بلند قیمتیں مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہ شرح اسٹیٹ بینک کی درمیانی مدت کی 5 سے 7 فیصد ہدفی حد سے بھی اوپر ہے۔ بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پھیلنے کی صورت میں توانائی درآمدی بل، ترسیلات زر اور سپلائی چین پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
بینک نے اس منظرنامے کو پیش گوئی قرار دیا ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ عالمی مالی حالات، محصولات کی وصولی، موسمی اثرات اور اصلاحات کی رفتار جیسے عوامل اصل نمو اور مہنگائی کو اندازوں سے مختلف کر سکتے ہیں۔ اے ڈی بی کی ڈیٹا لائبریری نے 23 ستمبر کو ستمبر 2026 کے آؤٹ لک سے متعلق نمو اور مہنگائی کے تازہ ڈیٹا سیٹس بھی اپ ڈیٹ کیے ہیں۔
