اولان باتور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا سے ملاقات میں پاکستان ریلوے کے مین لائن-1 منصوبے کی جدید کاری کے لیے ضروری طریقہ کار تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ ملاقات منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں 25ویں کیریک وزارتی کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جہاں اے ڈی بی کے صدر نے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے بینک کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن پاکستان کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس ڈھانچے کے لیے اہم ہے اور متعلقہ رسمی و مالیاتی مراحل جلد مکمل ہونے چاہییں تاکہ منصوبے کا عملی آغاز ممکن بنایا جا سکے۔ ماساتو کاندا نے ایم ایل-1 کو ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی اسے آگے بڑھانے میں ممکنہ تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب ڈان کی رپورٹ کے مطابق اے ڈی بی کراچی سے روہڑی تک ایم ایل-1 کے تقریباً 480 کلومیٹر حصے کی بہتری کے لیے 1.1 ارب ڈالر کے کثیر مرحلہ سرمایہ کاری پروگرام کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوری 2027 میں ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن متوقع ہے جو وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ منصوبے کے تکنیکی، سماجی، ماحولیاتی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
ریلوے حکام نے کراچی-روہڑی حصے کی مجموعی اپ گریڈیشن لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر بتائی ہے، جبکہ نواب شاہ سے روہڑی کے 183 کلومیٹر حصے کو ترجیحی بنیاد پر لینے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم مختلف حصوں کے لیے حتمی فنانسنگ، منظوری اور عمل درآمد کے شیڈول کا انحصار جاری مذاکرات اور رسمی منظوریوں پر ہوگا۔
ملاقات میں صرف ریلوے ہی نہیں بلکہ موسمیاتی مالیات، علاقائی رابطوں، برآمدات اور اہم معدنیات پر بھی بات ہوئی۔ احسن اقبال نے موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر اور نسبتاً کم اخراج والے ممالک کے لیے اے ڈی بی میں خصوصی فنانسنگ ونڈو بنانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا سسٹمز کے ذریعے خطرات کی نشاندہی اور وسائل کی بہتر تقسیم کی تجویز بھی دی۔
پاکستانی وزیر نے کیریک ممالک کے لیے مشترکہ علاقائی منصوبوں کی مسابقتی فنانسنگ اور اہم معدنیات کی ویلیو چین کے لیے ایک علاقائی پلیٹ فارم کی تجویز بھی پیش کی۔ دونوں جانب سے برآمدات بڑھانے اور سیلابی پانی کے بہتر ذخیرے و استعمال سے متعلق مشترکہ مطالعات کے امکان پر اتفاق کیا گیا۔
ایم ایل-1 پاکستان کا مرکزی مسافر اور مال بردار ریلوے کوریڈور ہے، اس لیے اس کی جدید کاری کو طویل عرصے سے قومی انفراسٹرکچر ترجیح قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تازہ پیش رفت اے ڈی بی کی سیاسی و ادارہ جاتی حمایت کی تصدیق کرتی ہے، لیکن منصوبے کے ہر مرحلے کی حتمی مالی منظوری اور تعمیراتی آغاز کے لیے متعلقہ رسمی کارروائیاں ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔
