اسلام آباد: پاکستان کے بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے مین لائن ون، یا ایم ایل ون، کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ڈان کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی تخمینی مالیت 6.8 ارب ڈالر ہے اور حکومت اس کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔
ایم ایل ون پاکستان ریلوے کے بنیادی شمال-جنوب ریل کوریڈور کی اپ گریڈیشن سے متعلق منصوبہ ہے۔ اس کوریڈور کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ ملک کے بڑے شہروں، صنعتی مراکز اور بندرگاہی روابط کو ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑتا ہے۔ منصوبے پر طویل عرصے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تناظر میں بھی بات ہوتی رہی ہے، تاہم تازہ پیش رفت میں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کی ممکنہ شرکت نمایاں ہے۔
بین الاقوامی قرض دہندگان کی دلچسپی کا مطلب ابھی حتمی مالی منظوری یا فنڈنگ معاہدہ نہیں ہے۔ ایسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں تکنیکی جائزے، مالیاتی ساخت، قرض کی شرائط، منصوبے کے مراحل اور حکومتی ضمانتوں سمیت متعدد امور پر تفصیلی مذاکرات درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو ممکنہ فنانسنگ کے لیے ابتدائی یا جاری رابطوں کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔
پاکستان ریلوے کو کئی برسوں سے پٹریوں، سگنلنگ، رفتار، حفاظت اور آپریشنل کارکردگی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کا بنیادی مقصد مرکزی ریلوے لائن کی صلاحیت اور معیار بہتر بنانا ہے، لیکن اس کے مالی اور عملی نتائج منصوبے کی حتمی ساخت اور مرحلہ وار نفاذ سے وابستہ ہوں گے۔
ڈان کی رپورٹ میں اے ڈی بی اور عالمی بینک کی دلچسپی کو اہم پیش رفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، تاہم کسی ادارے کی جانب سے 6.8 ارب ڈالر کی مکمل رقم فراہم کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ حتمی فنانسنگ پیکیج، شراکت داروں کے حصے اور عمل درآمد کا شیڈول طے ہونے کے بعد ہی منصوبے کی مالی ساخت واضح ہو سکے گی۔
