مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ گلاسز، پنز اور دیگر ویئریبل ڈیوائسز کو ٹیکنالوجی صنعت اسمارٹ فون کے بعد ممکنہ اگلا بڑا کمپیوٹنگ پلیٹ فارم سمجھ رہی ہے، لیکن ان آلات کی مسلسل دیکھنے، سننے اور اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت نے پرائیویسی اور رضامندی سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ رائٹرز کی 22 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق صنعت کے ایگزیکٹوز، قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عوامی اعتماد حاصل نہ کیا گیا تو یہی خصوصیات ان مصنوعات کی قبولیت کو سست کر سکتی ہیں۔

Meta کے Ray-Ban اسمارٹ گلاسز اس بحث کا نمایاں مرکز بنے ہیں۔ برطانیہ میں بعض مقامات، جن میں پب چین Wetherspoon بھی شامل ہے، نے خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات کی وجہ سے ان کے استعمال پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ Meta اور Luxottica کے خلاف امریکا میں ایک مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے جس میں صارفین کی جانب سے پرائیویسی سے متعلق گمراہ کن دعوؤں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ Meta ان الزامات سے اختلاف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ریکارڈنگ کے دوران جلنے والی لائٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات آس پاس موجود لوگوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔

Samsung رواں سال Gentle Monster اور Warby Parker کے ساتھ شراکت میں اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں داخل ہونے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایسے آلات کو فوری طور پر اسمارٹ فون کا متبادل نہیں سمجھتی اور اعتماد، سیکیورٹی اور صارف کے کنٹرول کو بنیادی عناصر قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب بعض اسٹارٹ اپس کیمرہ فری گلاسز یا ایسے ریکارڈرز تیار کر رہے ہیں جنہیں صارف کو واضح طور پر فعال کرنا پڑتا ہے تاکہ ریکارڈنگ زیادہ قابلِ فہم اور رضامندی پر مبنی ہو۔

OpenAI کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی ماضی میں ایسے ہمیشہ فعال رہنے والے اے آئی ڈیوائس کے تصور پر بات کر چکے ہیں جو صارف کے ماحول کو سمجھ سکے۔ ان کے مطابق وسیع پیمانے پر اعتماد کے لیے مستقبل میں زیادہ ڈیٹا مقامی طور پر ڈیوائس پر پروسیس کرنا ضروری ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ مسلسل کلاؤڈ سرورز پر بھیجا جائے۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ویئریبل اے آئی اتنی ہی زیادہ کارآمد بنتی ہے جتنا زیادہ سیاق و سباق وہ جمع کرتی ہے، لیکن یہی معلومات ایسے افراد کی ویڈیو یا آواز بھی شامل کر سکتی ہیں جنہوں نے ریکارڈ ہونے کی اجازت نہیں دی۔ صنعت کے لیے اگلا مرحلہ صرف نئی خصوصیات پیش کرنا نہیں بلکہ واضح اشاروں، رضامندی، مقامی پروسیسنگ اور مضبوط ڈیٹا تحفظ کے ذریعے عوامی اعتماد قائم کرنا بھی ہوگا۔