مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کی آٹھ رکنی کابینہ نے جمعہ 4 ستمبر 2026 کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر مظفرآباد میں ہوئی جہاں قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری طارق فاروق نے نو منتخب وزرا سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے والوں میں سردار میر اکبر خان، وقار نور، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، چوہدری اظہر صادق، راجہ ثاقب مجید، راجہ ریاست، راجہ عمیر نعیم اور چوہدری عبدالرحمن آرائیں شامل ہیں۔ تقریب میں وزیراعظم افتخار گیلانی، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، اراکینِ قانون ساز اسمبلی، سرکاری افسران اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق آٹھ وزرا میں سے سات براہِ راست حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں، جبکہ چوہدری عبدالرحمن آرائیں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مخصوص نشست پر منتخب رکن ہیں۔ کابینہ میں مظفرآباد، باغ، کوٹلی، بھمبر اور میرپور سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، وقار نور، سردار میر اکبر اور چوہدری اظہر صادق پہلے بھی وزارتی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں، جبکہ باقی ارکان پہلی مرتبہ کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔

حلف برداری کے فوراً بعد وزرا کے محکموں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دستیاب سرکاری اور نیوز روم رپورٹس کے مطابق قلمدان بعد کے مرحلے میں مختص کیے جائیں گے۔ اسی طرح تقریب تک کسی مشیر یا معاونِ خصوصی کی تقرری کا باضابطہ اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔ اس لیے نئی کابینہ کی عملی تقسیمِ کار اور ہر وزیر کے دائرۂ اختیار کا تعین آئندہ نوٹیفکیشن سے ہوگا۔

افتخار گیلانی 28 اگست کو آزاد کشمیر کے سترہویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ کابینہ کی حلف برداری ان کی حکومت سازی کے ابتدائی مرحلے کی تکمیل ہے اور اب انتظامیہ کو بجٹ، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، شفافیت اور عوامی خدمات سے متعلق حکومتی ترجیحات پر کام آگے بڑھانا ہوگا۔ تاہم ان شعبوں سے متعلق کوئی نیا پالیسی فیصلہ اس حلف برداری کی تقریب میں الگ سے منظور یا نافذ نہیں کیا گیا۔

نئی کابینہ کا حجم ماضی کی بعض آزاد کشمیر حکومتوں کے مقابلے میں محدود رکھا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں کابینہ کے حجم کے بارے میں آئینی اور سیاسی بحث کئی برس سے جاری رہی ہے؛ 2018 کی تیرہویں آئینی ترمیم میں وزرا کی تعداد پر حد لگائی گئی تھی، تاہم 2023 میں اس پابندی کو ہٹا دیا گیا۔ موجودہ آٹھ رکنی تشکیل قانونی زیادہ سے زیادہ تعداد کا استعمال نہیں بلکہ وزیراعظم کی ابتدائی سیاسی و انتظامی ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔

اب اگلا اہم مرحلہ قلمدانوں کی تقسیم، محکموں کی ذمہ داریوں کا نوٹیفکیشن اور کابینہ کے پہلے پالیسی اجلاس ہوں گے۔ جب تک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، کسی مخصوص وزیر کو کسی محکمے سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔