مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے 24 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے منگل کو پریس کانفرنس میں صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کیا۔ اعلان کے مطابق امیدوار 19 ستمبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر اس انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری بھی انجام دیں گے۔

شیڈول کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 ستمبر ہی کو کی جائے گی۔ امیدواروں کو دستبردار ہونے کے لیے 23 ستمبر صبح ساڑھے 11 بجے تک کا وقت دیا گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ 24 ستمبر کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوگی۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد گنتی کی جائے گی اور الیکشن کمیشن کے مطابق نتیجہ اسی روز جاری کیا جائے گا۔

یہ انتخاب اس لیے اہم ہے کہ آزاد کشمیر کے صدر کا عہدہ رواں سال جنوری میں بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد خالی ہوگیا تھا۔ اس کے بعد آئینی انتظام کے تحت اسمبلی کے اسپیکر نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد میں قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر کی تبدیلی کے بعد موجودہ اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے قائم مقام صدر کی حیثیت اختیار کی۔ اب الیکشن کمیشن کے اعلان کے ساتھ مستقل صدر کے انتخاب کا باضابطہ عمل شروع ہوگیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ الیکشن کمیشن کے سینئر رکن خواجہ محمد احسن اور رکن سید نظیر الحسن گیلانی بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ آزاد کشمیر کا صدر قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، اس لیے اسمبلی میں جماعتی عددی برتری انتخاب کے نتیجے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو موجودہ اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اور جماعتی ذرائع سابق وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی کو ممکنہ امیدواروں میں نمایاں قرار دے رہے ہیں۔ تاہم باضابطہ امیدواروں کی حتمی فہرست کاغذاتِ نامزدگی، جانچ پڑتال اور دستبرداری کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

الیکشن کمیشن کا جاری کردہ ٹائم ٹیبل کئی ماہ سے خالی صدارتی منصب کو باقاعدہ انتخاب کے ذریعے پُر کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ آئندہ چند روز میں سیاسی جماعتوں کی نامزدگیاں، امیدواروں کی اہلیت اور اسمبلی میں حمایت کا نقشہ اس انتخاب کی سمت متعین کرے گا۔ چونکہ نتیجہ براہِ راست اسمبلی کے ووٹوں سے طے ہونا ہے، اس لیے 24 ستمبر کی پولنگ سے پہلے پارلیمانی جماعتوں کے فیصلے اور اتحاد خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔