کراچی: اے کے ڈی سیکیورٹیز لمیٹڈ نے سرمایہ کاروں اور عام صارفین کو ایسے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، صفحات اور ویڈیوز سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے جن میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی اور کمپنی کی چیئرپرسن حنا جنید کی شناخت استعمال کی جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ مواد غیر مجاز سرمایہ کاری اسکیموں اور اسٹاک مارکیٹ سے متعلق نام نہاد مشاورتی خدمات کے ذریعے لوگوں سے رقوم حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے نوٹس میں بتایا کہ نامعلوم افراد یا گروہوں نے فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس اور صفحات بنائے، جہاں دونوں شخصیات کے نام، تصاویر اور آوازوں کو AI سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ ویڈیو مواد میں استعمال کیا گیا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ عقیل کریم ڈھیڈی، حنا جنید، اے کے ڈی سیکیورٹیز یا اے کے ڈی گروپ کی کسی بھی متعلقہ کمپنی نے ایسی کسی سرمایہ کاری اسکیم، ایپ، ویب سائٹ، صفحے یا گروپ کی منظوری، سرپرستی یا توثیق نہیں کی۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر 16 ستمبر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے پاس شکایت جمع کرائی گئی تھی۔ شکایت میں مبینہ طور پر جعلی مواد تیار اور پھیلانے والے افراد کے خلاف تحقیقات، ممکنہ مقدمہ اندراج اور متعلقہ آن لائن مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کی درخواست کی گئی۔ یہ مرحلہ فی الحال شکایت اور تحقیقات کی درخواست تک محدود ہے؛ اس لیے ذمہ دار افراد یا گروہوں کی شناخت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ڈیپ فیک فراڈ مالیاتی شعبے کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے کیونکہ مصنوعی آواز، تصویر اور ویڈیو کے ذریعے معروف کاروباری شخصیات یا اداروں کی نقل تیار کر کے صارفین کو حقیقی تاثر دیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی احتیاط یہ ہے کہ کسی بھی سرمایہ کاری پیشکش، ادائیگی کی درخواست یا اسٹاک مشورے کی تصدیق متعلقہ کمپنی کے سرکاری چینلز اور ریگولیٹری ریکارڈ سے کی جائے اور مشکوک لنکس یا غیر مصدقہ اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقل نہ کی جائے۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ وہ دستیاب قانونی راستے اختیار کر رہی ہے اور عوام سے کہا ہے کہ ایسے غیر مجاز مواد، فون کالز یا پیغامات پر انحصار نہ کریں۔ یہ واقعہ پاکستان میں مالیاتی اداروں کے لیے ڈیجیٹل شناخت، سائبر سکیورٹی اور AI سے پیدا ہونے والے فریب سے متعلق حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔