چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے 22 ستمبر 2026 کو ہانگژو میں اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران نئی مصنوعی ذہانت چپ Zhenwu V900 اور اگلی نسل کے زیادہ بڑے اے آئی ماڈلز سے متعلق منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایڈی وو کے مطابق نئی چپ گزشتہ نسل کے Zhenwu M890 کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ کارکردگی فراہم کر سکتی ہے۔ کمپنی نے اسے چین کی سب سے طاقتور اے آئی چپ قرار دیا ہے، تاہم یہ دعویٰ خود علی بابا کا ہے اور آزاد بینچ مارکنگ کے مکمل نتائج فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئے۔
Zhenwu چپس علی بابا کے ڈیٹا سینٹرز میں ماڈل ٹریننگ اور inference کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ پانچ سے دس ٹریلین پیرامیٹرز کے پیمانے پر نیا اے آئی ماڈل ٹرین کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علی بابا کے موجودہ نمایاں Qwen3.8-Max ماڈل کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں 2.4 ٹریلین پیرامیٹرز ہیں۔
کمپنی نے اپنے کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں بھی تیز توسیع کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ علی بابا کے مطابق اے آئی کمپیوٹنگ کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ 2032 تک 20 گیگاواٹ سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹر سپلائی چین کی بعض رکاوٹیں توسیع کی رفتار محدود کر رہی ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین جدید اے آئی چپس اور ماڈلز میں خود انحصاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی برآمدی پابندیوں نے چین کو بعض جدید ترین چپس اور چپ سازی کے آلات تک رسائی سے محدود کیا ہے، جس کے بعد علی بابا، ہواوے اور دیگر چینی کمپنیاں مقامی چپ ڈیزائن اور ماڈل ٹریننگ کی صلاحیت بڑھا رہی ہیں۔
نئی چپ اور ماڈل منصوبوں کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ علی بابا انہیں کس پیمانے پر تیار اور تعینات کر پاتی ہے اور ان کی کارکردگی آزاد ٹیسٹوں میں کس حد تک ثابت ہوتی ہے۔ فی الحال کمپنی نے اپنے ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ صارفین اور مستقبل کے بڑے اے آئی ماڈلز کو اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ قرار دیا ہے۔

