نئی دہلی/سان فرانسسکو: امریکی ای کامرس کمپنی ایمیزون بھارت میں تیز رفتار ڈیلیوری کے تیزی سے بڑھتے شعبے میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے 2030 تک تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے باخبر دو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ رقم ایمیزون کے بھارت میں کوئیک کامرس کاروبار کے لیے اب تک کی سب سے بڑی منصوبہ بند سرمایہ کاری ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ایمیزون 2027 کے اختتام تک تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ اس کے بعد 2030 تک مزید دو ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی نے مجوزہ سرمایہ کاری کی رقم پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم کہا کہ اس کی ایمیزون ناؤ سروس نے حالیہ تین ماہ میں سالانہ بنیاد پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی مجموعی فروخت کی رفتار حاصل کی ہے۔
منصوبے کا ایک اہم حصہ چھوٹے مقامی گوداموں یا ڈارک اسٹورز کی تعداد میں اضافہ بتایا جا رہا ہے، جہاں سے قریبی صارفین کو چند منٹوں یا بہت کم وقت میں آرڈر پہنچائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایمیزون اپریل 2027 تک اپنے ایسے مراکز کی تعداد تقریباً 750 سے بڑھا کر 1,300 کے قریب لانے کا ہدف رکھتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاری انوینٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر بہتر بنانے، طلب کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی رینج بڑھانے پر بھی خرچ کی جائے گی۔ ایمیزون کا فوری ڈیلیوری ماڈل اس وقت بنیادی طور پر ایسی اشیا پر توجہ دے رہا ہے جن کی خریداری بار بار ہوتی ہے، جیسے خوراک اور گھریلو ضروریات۔
بھارت میں کوئیک کامرس کی مارکیٹ تیزی سے بڑھی ہے اور مقامی کمپنیاں Blinkit، Swiggy اور Zepto اس شعبے میں بڑی موجودگی رکھتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ان کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر مارکیٹ کا بڑا حصہ ہے، جبکہ ایمیزون کا حصہ ابھی محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کے لیے نئے گودام، بہتر مصنوعات کا انتخاب اور تیز تر سروس اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
اس شعبے کے ساتھ ضابطہ کاری اور رائیڈر سیفٹی کے سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے رواں سال کمپنیوں کو “10 منٹ” جیسی تشہیری زبان سے گریز کرنے کو کہا تھا کیونکہ ایسی مارکیٹنگ کے نتیجے میں ڈیلیوری رائیڈرز پر غیر ضروری رفتار کا دباؤ بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کی تفصیلات ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں اور کمپنی نے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اس لیے منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں داخلی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے اور اس کے اوقات یا حجم میں مستقبل میں تبدیلی ممکن ہے۔

