امریکا میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں عوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔ رائٹرز/آئیپسوس کے ایک نئے سروے کے مطابق 73 فیصد امریکی بالغوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی سے ممکنہ سنگین نقصان کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہیں۔ چار روزہ آن لائن سروے 22 ستمبر 2026 سے قبل مکمل ہوا اور اس میں ملک بھر سے 1,277 بالغ افراد نے حصہ لیا۔

سروے میں 39 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا معاشرے پر مجموعی اثر منفی ہے۔ یہ شرح گزشتہ ماہ کے 36 فیصد سے زیادہ اور مارچ میں سوال شامل کیے جانے کے بعد اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف 11 فیصد نے اے آئی کے اثر کو مثبت قرار دیا، جبکہ باقی افراد غیر یقینی رہے یا انہوں نے جواب نہیں دیا۔

رائٹرز/آئیپسوس کے نتائج میں یہ بھی سامنے آیا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی خود نگرانی پر مکمل اعتماد نہیں۔ بیشتر جواب دہندگان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اے آئی کے حفاظتی معیار طے کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ سروے میں 69 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے اے آئی کمپنیوں، محققین اور پالیسی ماہرین کی جانب سے ترقی کی رفتار، نگرانی اور حفاظتی معیارات سے متعلق جاری بحث کو فالو کیا ہے۔

سروے کے مطابق 55 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنا اچھی بات ہوگی، جبکہ 13 فیصد نے اسے منفی قرار دیا۔ اسی طرح 73 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ امریکا کے لیے اے آئی کو محفوظ اور ذمہ دار انداز میں تیار کرنا عالمی دوڑ میں سب سے آگے رہنے سے زیادہ اہم ہے؛ 23 فیصد نے عالمی قیادت کو ترجیح دی۔

مصنوعی ذہانت کے حامی اس ٹیکنالوجی کو پیداواری صلاحیت، سائنسی تحقیق اور صحت و مالیاتی شعبوں میں تیز پیش رفت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، لیکن سائبر سکیورٹی، روزگار، ڈیٹا تحفظ اور انتہائی طاقتور ماڈلز کے کنٹرول سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ سروے کے نتائج عوامی رائے کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم یہ کسی مخصوص اے آئی کمپنی کی کارکردگی یا کسی واحد پالیسی کے حق یا مخالفت کا حتمی فیصلہ نہیں۔ سروے کے نتائج میں تقریباً تین فیصد پوائنٹس کی ممکنہ غلطی کی حد بتائی گئی ہے۔