واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا اور نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر (این ایس آئی ڈی سی) کے مطابق آرکٹک سمندری برف نے 12 ستمبر 2026 کو اپنی سالانہ کم ترین سطح چھوئی، جب اس کا پھیلاؤ تقریباً 1.78 ملین مربع میل، یعنی 4.6 ملین مربع کلومیٹر، رہ گیا۔ ناسا کے مطابق یہ سطح 2008، 2010 اور 2025 کے ساتھ مشترکہ طور پر مسلسل سیٹلائٹ ریکارڈ کی دسویں کم ترین سالانہ کم ترین سطح بنتی ہے۔
آرکٹک میں سمندری برف ہر سال شمالی نصف کرے کے موسمِ گرما کے دوران پگھلتی ہے اور عموماً ستمبر میں کم ترین پھیلاؤ تک پہنچنے کے بعد سردیوں میں دوبارہ بڑھنا شروع کرتی ہے۔ ناسا اور این ایس آئی ڈی سی کئی دہائیوں سے سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے اس سالانہ چکر کی نگرانی کرتے آ رہے ہیں۔ مسلسل سیٹلائٹ مشاہدات 1978 کے آخر سے دستیاب ہیں، جس سے مختلف برسوں کے کم ترین اور زیادہ ترین پھیلاؤ کا تقابلی جائزہ ممکن ہوتا ہے۔
ناسا نے کہا کہ 2007 سے 2026 تک کے 20 سال آرکٹک سمندری برف کے 20 کم ترین سالانہ کم ترین پھیلاؤ پر مشتمل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں آرکٹک برف کی مجموعی سطح تاریخی سیٹلائٹ ریکارڈ کے ابتدائی حصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ تاہم ناسا نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ برسوں میں ستمبر کے کم ترین پھیلاؤ میں ایک نسبتاً مستحکم مرحلہ دیکھا گیا ہے، اس لیے ہر سال نئی ریکارڈ کمی ہونا ضروری نہیں۔
سمندری برف کا پھیلاؤ صرف سطحی رقبے کا پیمانہ ہے اور یہ برف کی موٹائی یا مجموعی حجم کی مکمل تصویر نہیں دیتا۔ آرکٹک میں برف کی عمر، موٹائی، ہوا، سمندری درجہ حرارت اور موسمی نظام بھی سالانہ تبدیلیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے سائنس دان طویل مدتی رجحانات کے ساتھ ساتھ روزانہ اور موسمی اتار چڑھاؤ کا بھی الگ جائزہ لیتے ہیں۔
ناسا نے جنوبی نصف کرے کے انٹارکٹک سمندری برف کے بارے میں بھی بتایا کہ وہ اپنی سالانہ زیادہ ترین سطح کے قریب پہنچ رہی تھی، تاہم ستمبر میں چھ روز کے دوران اس کے پھیلاؤ میں تقریباً 300 ہزار مربع کلومیٹر کی غیر معمولی کمی دیکھی گئی جس کے بعد دوبارہ اضافہ شروع ہوا۔ ادارے نے انٹارکٹک کے طویل مدتی رجحان کے بارے میں محتاط تشریح پر زور دیا کیونکہ وہاں سال بہ سال تغیر آرکٹک سے مختلف ہے۔
آرکٹک سمندری برف عالمی آب و ہوا کے نظام کا اہم حصہ ہے کیونکہ اس کی روشن سطح سورج کی توانائی کا بڑا حصہ واپس خلا میں منعکس کرتی ہے۔ برف میں طویل مدتی کمی سے سمندر کا زیادہ تاریک پانی کھلتا ہے، جو زیادہ حرارت جذب کر سکتا ہے۔ تازہ اعداد ایک سال کی صورتحال دکھاتے ہیں، جبکہ آب و ہوا سے متعلق نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کئی دہائیوں کے رجحانات کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

