اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی کے اثرات سعودی عرب تک پھیلنے اور اس کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کے تحت ذمہ داریاں فعال ہوسکتی ہیں۔ ان کا بیان سعودی عرب میں حوثی حملوں کے ایک نئے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے منگل کو سعودی عرب میں تیل سے متعلق تنصیبات اور دیگر اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پیش آنے پر ان شرائط کو پورا کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی عملی ردعمل کی نوعیت معاہدے، حالات اور سعودی سرزمین کے دفاع کی ضرورت سے طے ہوگی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو سہ فریقی دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع اور مشترکہ بازدار قوت کو مضبوط کرنا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن کے خلاف حملے کو مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تازہ بیان اس معاہدے کے ممکنہ عملی اطلاق سے متعلق سیاسی اور دفاعی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اسے فوجی کارروائی کے باقاعدہ اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے ساتھ یمن اور سعودی عرب کے محاذ پر کشیدگی بڑھنے سے خطے میں تصادم کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھا ہے۔ پاکستان نے ایران کو بھی علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا پیغام دیا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ ترکیہ بھی نئے سہ فریقی فریم ورک کا حصہ ہے۔
خواجہ آصف کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان دفاعی معاہدے کی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر دستیاب معلومات کے مطابق ابھی پاکستان کی جانب سے کسی مخصوص فوجی تعیناتی یا یمن کے اندر کارروائی کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو ممکنہ اجتماعی دفاع سے متعلق انتباہ اور پالیسی مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ جنگ میں پاکستان کی براہ راست شمولیت کی تصدیق کے طور پر۔




