وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے متعلق سرگرمیوں کے دوران پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں کمزوری کو اجاگر کرتے ہوئے کلائمیٹ فنانسنگ کی رفتار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ انہوں نے موسمیاتی مالیات، ڈیجیٹل تعاون اور COP31 ایکشن ایجنڈا سے متعلق مباحثوں میں شرکت کی۔
ورلڈ اکنامک فورم کے ’فنانسنگ پلینیٹ اینڈ پراسپیریٹی‘ اجلاس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی آفات، بالخصوص سیلاب، سے بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں پر شدید اثرات کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ملک کے موسمیاتی وعدوں کو ایسے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے جن میں سرمایہ کاری ممکن ہو اور جن کے لیے مالی وسائل واضح طریقے سے دستیاب کیے جا سکیں۔
پاکستان طویل عرصے سے عالمی موسمیاتی مذاکرات میں یہ مؤقف پیش کرتا آیا ہے کہ ترقی پذیر اور زیادہ خطرے سے دوچار ممالک کے لیے مالی وسائل، موافقت اور بحالی کے منصوبوں تک رسائی اہم ہے۔ تاہم کسی بھی نئے فنڈ یا مخصوص مالی وعدے کے بارے میں اس رپورٹ میں کوئی ایسا دعویٰ شامل نہیں کیا گیا جس کی دستیاب بیان میں تصدیق نہ ہو۔
وزیر خزانہ کی گفتگو میں موسمیاتی اہداف کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں سے جوڑنے پر خاص توجہ رہی۔ اس نقطہ نظر کے تحت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور قدرتی آفات کے مقابلے میں مزاحمت بڑھانے والے منصوبوں کے لیے سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ بیان 22 ستمبر 2026 کو رپورٹ ہوا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اورنگزیب نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ ان موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان کے لیے موسمیاتی فنانسنگ کے عملی راستوں کی اہمیت اجاگر کی۔
