نیویارک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے میں ڈیجیٹل تبدیلی مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے نیویارک میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے اعلیٰ سطحی وزارتی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی اور کیش لیس ادائیگیوں کے دائرہ کار میں توسیع پر زور دیا۔
وزیر خزانہ، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں، نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ایجنڈا صرف انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق وسیع پیمانے پر اپ اسکلنگ اور ری اسکلنگ پروگرام ضروری ہیں تاکہ فری لانسرز اور دیگر ڈیجیٹل کارکن زیادہ قدر والی خدمات کی طرف بڑھ سکیں اور ملکی ڈیجیٹل معیشت میں بہتر حصہ ڈال سکیں۔
محمد اورنگزیب نے ورچوئل اثاثوں کے بڑھتے استعمال اور پاکستان میں قانون سازی، نگرانی اور لائسنسنگ پر مشتمل مناسب ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ورچوئل اثاثوں کی ممکنہ افادیت صرف کرپٹو کرنسی تک محدود نہیں، بلکہ انہیں نسبتاً کم لاگت اور زیادہ ہموار ترسیلاتِ زر کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے پبلک ڈیٹ اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں میں ٹوکنائزیشن کے امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز مالیاتی جدت کے نئے راستے پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم ان تصورات کے عملی نفاذ کے لیے قانون سازی، نگرانی، صارفین کے تحفظ اور مالیاتی استحکام سے متعلق ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔
انہوں نے ڈی سی او کے رکن ممالک کے درمیان کامیاب تجربات، پالیسی طریقہ کار اور سرمایہ کاری کے مواقع کے تبادلے کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اپنی ڈیجیٹل بنیادوں کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کو وسیع معاشی ترقی کی حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

