کراچی: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی اور ریگولیٹری سطح پر اقدامات جاری ہیں اور متعدد شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی سامنے آ رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے متعلق تقریب کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کان کنی و معدنیات، ٹیکنالوجی، زراعت، تیل و گیس اور ریفائنری اپ گریڈ جیسے شعبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ڈان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹنگ کے مطابق وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ترکی کے سرمایہ کار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب سمیت دیگر بین الاقوامی سرمایہ کار بھی مختلف مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے فوری طور پر عملی شکل نہیں لیتے اور ان کے لیے پالیسی کے تسلسل، مؤثر سہولت کاری اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار ایسا پالیسی فریم ورک اور ریگولیٹری ماحول فراہم کرنا ہے جس میں نجی شعبہ سرمایہ کاری، روزگار اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی قیادت کر سکے۔ ان کے مطابق حکومت برآمدی کریڈٹ ایجنسیوں، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے دستیاب مالی اور ادارہ جاتی راستوں کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ کے حوالے سے بتایا کہ فائلرز کی تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو گزشتہ سال تقریباً 39 لاکھ تھی، جبکہ 2022 میں یہ تعداد تقریباً 18 سے 19 لاکھ کے درمیان تھی۔ انہوں نے ہاؤسنگ فنانس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے ’اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ ہو چکی ہے اور بینک مزید منظوریوں پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب چیلنج صرف سرمایہ دستیاب کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس سرمائے کو تعمیرات، کاروباری توسیع، روزگار اور حقیقی معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے کے لیے سپلائی سائیڈ صلاحیت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق کیپٹل مارکیٹ کو وسعت دینے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے پیدا کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ کے یہ بیانات حکومتی معاشی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور کسی حقیقی سرمایہ کاری معاہدے یا مکمل ہونے والے منصوبے میں فرق برقرار رہتا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں متعدد شعبوں میں دلچسپی کا ذکر ہے، مگر ہر ممکن سرمایہ کاری کی حتمی مالیت، ٹائم لائن یا معاہدے کی تفصیلات الگ الگ ظاہر نہیں کی گئیں۔

