نیویارک/اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ویک کے موقع پر موسمیاتی مالیات سے متعلق متعدد اجلاسوں میں پاکستان کی موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی ضروریات پیش کرتے ہوئے عالمی فنڈز تک رسائی کے طریقہ کار کو تیز اور آسان بنانے پر زور دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق انہوں نے سیلاب سمیت موسمیاتی آفات سے انفراسٹرکچر اور آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات، ابتدائی وارننگ نظام اور مالی طور پر قابلِ عمل منصوبوں کی تیاری کو پاکستان کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
ورلڈ اکنامک فورم کے “Financing Planet and Prosperity” اجلاس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی امداد کے ساتھ اپنے داخلی وسائل اور مالیاتی بفرز بھی مضبوط کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں کے ذریعے ریلیف، موافقت اور تعمیر نو کے لیے فنانسنگ کے ذرائع کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ جیسے عالمی ذرائع سے رقوم کے حصول میں طویل اور پیچیدہ طریقہ کار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت بیان کی۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے ورلڈ بینک گروپ کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی مجموعی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کا تقریباً ایک تہائی حصہ موسمیاتی لچک اور ڈیکاربونائزیشن سے متعلق مقاصد کے لیے ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس فنانسنگ سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اعلیٰ معیار کے ایسے منصوبے تیار کرنا ہوں گے جو بینک ایبل ہوں اور عملی سرمایہ کاری کی شرائط پوری کرتے ہوں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے کلائمیٹ ریزیلینس فریم ورک کے تحت 200 ملین ڈالر کی پہلی قسط موصول ہونے کا بھی ذکر کیا۔
COP31 ایکشن ایجنڈا کے آغاز سے متعلق تقریب میں محمد اورنگزیب نے صاف توانائی، بجلی کے شعبے کی منتقلی، قابل تجدید توانائی، توانائی مؤثر عمارتوں، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے شہروں، خوراک کے تحفظ اور ماحول دوست زراعت کو پاکستان کی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ قرار دیا۔ انہوں نے مجوزہ Climate Implementation Bridge کو قومی موسمیاتی وعدوں کو قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں بدلنے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر بیان کیا۔
حکومت کی پیش کردہ یہ معلومات پالیسی اہداف، دستیاب مالیاتی فریم ورکس اور جاری بین الاقوامی رابطوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ کسی مخصوص منصوبے کے لیے نئی رقم کی حتمی منظوری یا فوری اجرا کا الگ اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے تازہ پیش رفت کا مرکزی نکتہ پاکستان کی جانب سے موسمیاتی مالیات تک تیز رسائی، اندرونی وسائل کے بہتر استعمال اور قابل عمل منصوبوں کی تیاری پر زور ہے۔

