لاہور: ہتک عزت ٹریبونل نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے خلاف صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے دعوے پر فیصلہ سناتے ہوئے 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مختصر عدالتی حکم کے مطابق دونوں فریقوں کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد دعویٰ جزوی طور پر منظور کیا گیا۔
ڈان کے مطابق ٹریبونل کے رکن انجم رضا سید نے حکم میں قرار دیا کہ مدعیہ کا دعویٰ جنرل ڈیمیجز کی حد تک 30 لاکھ روپے میں ڈگری کیا جاتا ہے۔ تاہم عظمیٰ بخاری کی جانب سے خصوصی اور تعزیری ہرجانے کے مطالبات کو مسترد کر دیا گیا۔ اس طرح عدالت نے دعوے کے تمام مالی مطالبات قبول نہیں کیے بلکہ ایک مخصوص مد میں محدود رقم کا حکم دیا۔
ہتک عزت کا مقدمہ سیاسی تناظر میں سامنے آیا تھا اور فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے عدالتی نتیجے پر تنقید کی۔ پی ٹی آئی کے بیان میں مختلف مالی اعداد کا حوالہ بھی دیا گیا، تاہم دستیاب مختصر عدالتی حکم میں واضح طور پر 30 لاکھ روپے جنرل ڈیمیجز درج ہیں۔ اس رپورٹ میں عدالتی دستاویز میں درج رقم کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔
ہتک عزت کے مقدمات میں عدالت یا ٹریبونل یہ جائزہ لیتا ہے کہ متنازع بیان یا مواد نے مدعی کی شہرت کو قانونی طور پر نقصان پہنچایا یا نہیں اور اگر ذمہ داری ثابت ہو تو مناسب ہرجانہ کیا ہو۔ موجودہ فیصلے میں خصوصی اور تعزیری ہرجانے مسترد ہونے سے یہ بھی واضح ہے کہ ٹریبونل نے مختلف اقسام کے دعووں کو الگ الگ جانچا۔
یہ فیصلہ فریقین کے قانونی حقوق کے اختتام کا لازمی مطلب نہیں؛ قابل اطلاق قانون کے تحت اپیل یا دیگر قانونی چارہ جوئی کا امکان متعلقہ فورم اور مقررہ مدت سے طے ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں کسی اپیل کے حتمی نتیجے کی اطلاع نہیں، اس لیے اسے آخری ناقابل تبدیلی قانونی نتیجہ قرار نہیں دیا جا رہا۔
سیاسی جماعتوں کے ردعمل اور عدالتی حکم میں فرق کو بھی الگ رکھنا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کا بیان اس کا سیاسی موقف ہے، جبکہ 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانے اور خصوصی و تعزیری ہرجانے مسترد کرنے کی تفصیل ٹریبونل کے مختصر حکم سے منسوب ہے۔
