کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے دیرینہ مسائل سے متعلق متعلقہ اداروں سے جامع رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ ڈان کے مطابق چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقامی بسوں، رکشوں، ٹریفک انتظام اور شہری نقل و حمل سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔

سماعت میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل نے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کوئٹہ کے لیے 27 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی کا ذکر بھی کیا گیا۔ عدالت کے سامنے شہری ٹرانسپورٹ کے موجودہ ڈھانچے، روٹس اور سابق عدالتی ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔

بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطا اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ سابق عدالتی ہدایات کے باوجود کوئٹہ کی مرکزی اور ذیلی سڑکوں پر مقامی بسیں بدستور چل رہی ہیں۔ اس پس منظر میں عدالت نے حکام سے صرف عمومی بیان کے بجائے تفصیلی اور جامع رپورٹ مانگی ہے تاکہ مختلف ٹرانسپورٹ ذرائع، ٹریفک نظم اور عملی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ عدالتی کارروائی انتظامی اداروں سے جواب طلبی اور نگرانی کا مرحلہ ہے؛ عدالت نے دستیاب رپورٹ کے مطابق کسی حتمی پالیسی یا منصوبے کی منظوری نہیں دی اور نہ ہی تمام ٹرانسپورٹ مسائل کے حل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سنایا ہے۔ متعلقہ حکام کی رپورٹس آنے کے بعد عدالت آئندہ سماعت میں پیش رفت اور سابق احکامات پر عمل درآمد کا مزید جائزہ لے سکتی ہے۔

کوئٹہ میں بڑھتی آبادی، محدود سڑک گنجائش، روایتی بس نظام، رکشوں اور نئی پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کے باہمی نظم نے شہری نقل و حرکت کو ایک اہم انتظامی مسئلہ بنا رکھا ہے۔ موجودہ پیش رفت کی اہمیت یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے مختلف اداروں سے ایک جامع تصویر طلب کی ہے، جس سے مستقبل میں روٹس، گاڑیوں، ٹریفک نفاذ اور شہری ٹرانسپورٹ کے انتظام سے متعلق مزید واضح اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔