پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے خاران اور واشک اضلاع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد مارے گئے۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق فوجی ترجمان نے بتایا کہ خاران میں دہشت گردوں نے سڑک پر رکاوٹ قائم کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دوسری کارروائی واشک ضلع میں کی گئی جہاں بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ فوجی ترجمان نے اس مقدار کو 2.9 ٹن بتایا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق دونوں کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا مقصد علاقے میں مسلح عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔

خاران میں سڑک بند کرنے کی مبینہ کوشش اہم ہے کیونکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ راستوں کی سکیورٹی شہری آمدورفت، تجارت اور سرکاری نقل و حرکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے اس کوشش کے بعد متعلقہ عناصر کے خلاف کارروائی کی۔ رپورٹ میں ہلاک ہونے والے افراد کو فوجی ترجمان نے دہشت گرد قرار دیا ہے؛ ان کی شناخت یا کسی مخصوص تنظیم سے تعلق کی مکمل تفصیل دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

واشک میں 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد کی برآمدگی بھی کارروائی کا نمایاں پہلو ہے۔ اتنی بڑی مقدار کی موجودگی سے متعلق دعویٰ سرکاری فوجی بیان پر مبنی ہے، اس لیے اسے اسی نسبت کے ساتھ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر کسی آزاد ذریعے سے برآمد شدہ مواد کی الگ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز حالیہ عرصے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ 9 ستمبر کی ان کارروائیوں کے بعد حکام کی توجہ ممکنہ سہولت کاروں، اسلحہ و دھماکا خیز مواد کے ذخائر اور رابطہ راستوں کی حفاظت پر رہنے کی توقع ہے۔ مزید تفصیلات، شناختوں یا تفتیشی نتائج کے بارے میں سرکاری اداروں کی آئندہ معلومات اہم ہوں گی۔