کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سینڈیمن صوبائی سول ہسپتال میں ادویات کی خریداری اور مرکزی اسٹور کے ریکارڈ سے متعلق سنگین آڈٹ اعتراضات پر محکمہ صحت سے مکمل دستاویزات طلب کر لی ہیں۔ ڈان کے مطابق کمیٹی نے 2019-20 کے دوران 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات کے مبینہ طور پر غائب ہونے سے متعلق آڈٹ پیرا کا جائزہ لیا اور حکام کو 15 دن میں ریکارڈ، وضاحتیں اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

خصوصی آڈٹ میں کہا گیا تھا کہ ہسپتال کے مرکزی اسٹور میں 22.825 ملین روپے کی ادویات کا ریکارڈ دستیاب نہیں یا اسٹاک میں کمی پائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق انچارج فارماسسٹ نے معاملہ انتظامیہ کے علم میں لایا تھا، تاہم مسئلہ حل نہیں ہوا۔ بعض ڈلیوری چالان اور انسپیکشن کمیٹی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں دستیاب نہیں تھیں۔

محکمہ صحت نے ادویات کی کمی کی تردید کی، لیکن کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کی جانچ میں اسٹاک بیلنس کے اختلافات سامنے آنے کا ذکر کیا گیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس وضاحت کو حتمی طور پر قبول کرنے کے بجائے مکمل دستاویزات مانگی ہیں۔ اس مرحلے پر آڈٹ اعتراض اور کمیٹی کی تشویش کو کسی فرد کے خلاف ثابت شدہ بدعنوانی یا مجرمانہ ذمہ داری قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ معاملہ ابھی ریکارڈ کی جانچ اور جواب طلبی کے مرحلے میں ہے۔

کمیٹی نے ادویات کی خریداری سے متعلق دیگر مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ متعلقہ حکام مکمل ریکارڈ پیش نہ کر سکے، جس کے بعد محکمہ صحت کو مقررہ مدت میں تمام دستاویزات اور وضاحتیں جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ صرف ملازمین کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں اور معاملہ چیف سیکریٹری اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے بھی لایا جا سکتا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری، اسٹوریج اور تقسیم کا ریکارڈ عوامی فنڈز کے شفاف استعمال اور مریضوں کو ضروری علاج کی دستیابی دونوں کے لیے اہم ہے۔ آئندہ مرحلے میں محکمہ صحت کی جانب سے پیش کیے جانے والے ریکارڈ اور کمیٹی کی جانچ سے یہ واضح ہوگا کہ آڈٹ میں سامنے آنے والا فرق کس وجہ سے پیدا ہوا اور آیا کسی انتظامی یا مالی ذمہ داری کا تعین ہوتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پی اے سی کی جانب سے اعتراض اٹھانے اور 15 دن میں مکمل ریکارڈ طلب کرنے تک محدود ہے۔