کوئٹہ: بلوچستان پولیس اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے جدید ڈیجیٹل شناختی تصدیق اور بایومیٹرک خدمات تک پولیس کی رسائی بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد شناخت کی تصدیق اور تفتیشی عمل میں جدید ڈیجیٹل اوزار استعمال کرنے کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق معاہدے پر کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں دستخط کیے گئے، جہاں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر اور نادرا کے ڈائریکٹر جنرل سہیل جہانگیر بھی موجود تھے۔ دونوں اداروں نے تکنیکی تعاون کو پولیس کے عملی اور تفتیشی نظام میں ڈیجیٹل سہولیات کے وسیع استعمال کی جانب قدم قرار دیا۔
معاہدے کے تحت نادرا بلوچستان پولیس کو ملٹی بایومیٹرک ویریفکیشن سسٹم، نادرا فارنزک ایکوزیشن ایپلی کیشن اور پاک آئی ڈی انٹرپرائز یوزر خدمات فراہم کرے گا۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے شناختی تصدیق کے مختلف طریقوں اور متعلقہ ڈیجیٹل ریکارڈ تک مجاز رسائی کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
بایومیٹرک اور شناختی نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو افراد کی شناخت کی تصدیق، تفتیش میں دستیاب معلومات کی جانچ اور بعض انتظامی کارروائیوں میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ایسے نظاموں کا استعمال ڈیٹا تحفظ، مجاز رسائی، ریکارڈ کی درستگی اور شہریوں کی رازداری سے متعلق قواعد کی پابندی کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ سرکاری خبر میں ان حفاظتی طریقہ کار کی تفصیلی شرائط بیان نہیں کی گئیں۔
بلوچستان جیسے وسیع جغرافیائی صوبے میں پولیسنگ کے لیے معلومات تک بروقت رسائی اور مختلف اضلاع میں یکساں شناختی تصدیق اہم انتظامی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ معاہدے کے ذریعے نادرا کی موجودہ شناختی ٹیکنالوجی کو پولیس کے منتخب عملی تقاضوں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ اس کے حقیقی نتائج نفاذ، تربیت اور تکنیکی دستیابی پر منحصر ہوں گے۔
دونوں اداروں کی جانب سے معاہدے کے مالی حجم یا تمام سہولیات کے مکمل نفاذ کی حتمی مدت جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے اسے فوری طور پر پورے صوبے میں مکمل نظام کے نفاذ کے بجائے ڈیجیٹل شناختی تعاون کے باضابطہ فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
