نیویارک: بینک آف امریکا نے اگلے دو سال کے دوران مزید ایک ہزار اپرنٹس بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد روایتی ڈگری کے بجائے عملی ہنر اور ملازمت کے لیے درکار صلاحیتوں کی بنیاد پر بھرتی کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ نئی بھرتیاں ان 800 سے زیادہ اپرنٹس کے علاوہ ہوں گی جنہیں بینک ہر سال اپنے مختلف پروگراموں کے تحت ملازمت اور تربیت کے مواقع دیتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اضافی اپرنٹس بھرتیوں میں ایسے افراد پر خاص توجہ دی جائے گی جن کے پاس چار سالہ کالج یا یونیورسٹی ڈگری نہیں ہے۔ بینک کے موجودہ اپرنٹس شپ پروگرام کنزیومر بینکنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر کاروباری شعبوں میں چلتے ہیں اور ان کا مقصد امیدواروں کو کام کے دوران تربیت، عملی تجربہ اور مستقل روزگار تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
بینک آف امریکا نے اس منصوبے کے ساتھ پانچ سال کے دوران 150 ملین ڈالر، یعنی 15 کروڑ ڈالر، ورک فورس ڈویلپمنٹ تنظیموں میں لگانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ رقم ایسے اداروں کی مدد کے لیے استعمال ہوگی جو افراد کو ملازمت کے قابل ہنر سکھاتے اور انہیں روزگار کے مواقع سے جوڑتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق فنڈنگ مقامی تنظیموں، یونیورسٹیوں، کمیونٹی کالجوں اور غیر منافع بخش اداروں کی تربیتی سرگرمیوں کو بھی سہارا دے گی۔ اس حکمت عملی سے بینک ایسی مقامی افرادی قوت تک رسائی بڑھانا چاہتا ہے جو رسمی چار سالہ ڈگری کے بغیر بھی تکنیکی، کسٹمر سروس یا دیگر عملی مہارتیں رکھتی ہو۔
امریکا میں متعدد بڑی کمپنیاں حالیہ برسوں میں بعض ملازمتوں کے لیے لازمی ڈگری کی شرط نرم کر رہی ہیں اور ہنر پر مبنی بھرتیوں کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس رجحان کے تحت تجربہ، سرٹیفکیٹ، مختصر تربیتی پروگرام اور اپرنٹس شپ کو ایسے امیدواروں کے لیے متبادل راستہ سمجھا جا رہا ہے جو مہنگی اعلیٰ تعلیم تک رسائی نہیں رکھتے۔
بینک آف امریکا نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ ایک ہزار اضافی اپرنٹس کن شہروں یا کاروباری اکائیوں میں تقسیم کیے جائیں گے، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پروگرام کا مقصد مقامی کمیونٹیز میں روزگار اور تربیت کے راستے بڑھانا ہے۔ اعلان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اپرنٹس شپ مکمل کرنے والے کتنے امیدواروں کو مستقل ملازمت ملے گی، اس لیے پروگرام کے طویل مدتی نتائج آئندہ عمل درآمد کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔

