کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ نے بلوچستان میں ریکو ڈک تانبہ اور سونے کے منصوبے کی ترقی کی رفتار کم کرتے ہوئے اپنے تعمیراتی منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک ہل نے مائننگ فورم امریکاز میں کہا کہ ریکو ڈک کے مکمل تعمیراتی شیڈول پر آگے بڑھنے سے پہلے سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری درکار ہے۔ انہوں نے اس مرحلے پر نئی تعمیراتی تاریخ یا تاخیر کے مالی اثرات کی کوئی مقداری تفصیل نہیں دی۔

مارک ہل کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ کمپنی منصوبے کو ترک کرنے کا اعلان نہیں کر رہی بلکہ موجودہ حالات میں شیڈول اور عمل درآمد کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ سکیورٹی چیلنجز کمپنی کے لیے ایک اہم تشویش بنے ہوئے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص حملے کو ریکو ڈک کے موجودہ تعمیراتی فیصلے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے سکیورٹی سے متعلق کمپنی کے عمومی تحفظات اور منصوبے کے حتمی شیڈول کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

ریکو ڈک منصوبے میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد حصہ ہے، بلوچستان حکومت 25 فیصد کی مالک ہے، جبکہ باقی 25 فیصد پاکستانی سرکاری اداروں کے پاس ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کی سرمایہ کاری کا ابتدائی تخمینہ 4 ارب ڈالر تھا جسے بعد میں بڑھا کر تقریباً 5.6 ارب ڈالر کیا گیا۔ مجموعی طور پر دونوں مراحل میں سرمایہ کاری تقریباً 7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کا تخمینہ تقریباً 3.5 ارب ڈالر ہے۔

منصوبے کو روایتی اوپن پٹ کان اور ملنگ آپریشن کے طور پر تیار کیا جانا ہے، جہاں پہلے مرحلے میں سالانہ تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ٹن خام مال پراسیس کرنے کی صلاحیت کا تصور ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے تقریباً دوگنا کیا جا سکتا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق حالیہ فزیبلٹی جائزے میں کان کی متوقع مدت 37 سال بتائی گئی، اگرچہ ذخائر اور مستقبل کی توسیع کے امکانات اسے مزید طویل کر سکتے ہیں۔ تعمیراتی عروج کے دوران تقریباً 7,500 ملازمتوں اور پیداوار شروع ہونے کے بعد تقریباً 4,000 طویل مدتی روزگار کے مواقع کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

کمپنی کے موجودہ بیان کے بعد سب سے اہم غیر واضح نکتہ نیا تعمیراتی شیڈول ہے۔ بیرک نے نہ مکمل تعمیر کی نئی تاریخ دی ہے، نہ منصوبے کے سرمائے میں کسی مزید اضافے کی تصدیق کی ہے، اور نہ ہی منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو سکیورٹی حالات سے مشروط منصوبہ بندی اور تعمیراتی رفتار کے دوبارہ جائزے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حتمی تعطل یا منسوخی کے طور پر نہیں۔