اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے مستحق خواتین کے لیے ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے Digital Wallet اور interoperable payment system متعارف کرانے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ BISP کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے مطابق نئے نظام کا مقصد مستحق خواتین کو کسی ایک شہر یا مخصوص بینک کے ریٹیلر تک محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر میں پروگرام کے پارٹنر بینکوں کے مجاز ادائیگی مراکز سے رقم وصول کرنے کی سہولت دینا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق روبینہ خالد نے BISP ہیڈکوارٹرز میں براہ راست ای کچہری کے دوران بتایا کہ پروگرام کے چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز اور قابل اعتماد ریٹیلرز interoperable نظام کا حصہ ہوں گے۔ ان میں HBL، Habib Microfinance، Bank Alfalah، Telenor Microfinance، Bank of Punjab اور Mobilink/Jazz Bank شامل ہیں۔ مستحق خاتون ادائیگی حاصل کرنے کے لیے اصل قومی شناختی کارڈ پیش کرے گی اور بائیومیٹرک تصدیق مکمل کرنا ہوگی۔
BISP نے ادائیگی کے ساتھ ایک مخصوص Benazir SIM کے استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ پروگرام کے مطابق مستحق خواتین کو یہ سم مفت صرف قریبی BISP دفتر سے حاصل کرنی چاہیے اور اسے کسی فرنچائز، ریٹیلر یا غیر مجاز شخص سے لینے یا فعال کرانے سے گریز کرنا چاہیے۔ متعلقہ موبائل کمپنی کے نمائندے مقررہ BISP مقام پر سم ایکٹیویٹ کریں گے۔ مستحق خاتون کو اپنا اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئے طریقہ کار کے مطابق رقم Digital Wallet میں منتقل ہونے پر متعلقہ بینک Benazir SIM پر تصدیقی پیغام بھیجے گا۔ BISP نے مستحقین کو مشورہ دیا ہے کہ رقم لینے کے لیے مجاز ریٹیلر کے پاس جانے سے پہلے اس پیغام کی تصدیق کریں۔ رقم نکلوانے کے بعد ایک دوسرا پیغام موصول ہوگا جس میں نکلوائی گئی رقم کی تفصیل ہوگی۔ پروگرام نے دونوں پیغامات محفوظ رکھنے اور ادائیگی کے دوران موبائل فون کسی ریٹیلر، ایجنٹ یا دوسرے شخص کے حوالے نہ کرنے کی تاکید کی ہے۔
ای کچہری کے دوران ملک کے مختلف علاقوں سے 31 افراد نے رابطہ کیا اور اپنے مسائل بیان کیے۔ روبینہ خالد نے متعلقہ افسران کو شکایات ترجیحی بنیاد پر حل کرنے اور کارروائی کی رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن مستحقین کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے وہ NADRA سے تجدید کرائیں تاکہ ادائیگی میں رکاوٹ نہ آئے۔
BISP کے مطابق گھرانے کی اہلیت جانچنے کے لیے ہونے والا سروے بھی مقررہ اصول کے تحت کیا جاتا ہے اور ایک سروے مکمل ہونے کے بعد دو سال پورے ہونے سے پہلے دوبارہ سروے نہیں کیا جا سکتا۔ تازہ اعلان کا مرکزی پہلو ادائیگی کی رسائی میں لچک، ڈیجیٹل ریکارڈ اور مستحقین کو مخصوص بینک یا شہر کی پابندی سے نکالنا ہے۔ عملی نفاذ میں مستحقین کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ صرف BISP کے سرکاری مراکز، اصل شناختی کارڈ، بائیومیٹرک تصدیق اور مجاز ریٹیلرز کا استعمال کریں۔

