نیویارک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے ملاقات میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بیڑے کی جدید کاری اور پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں وسیع تر تعاون پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر خزانہ کے دورے کے دوران ہوئی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ملاقات میں پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کے حصول کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے بوئنگ کی اس تصدیق کا خیرمقدم کیا کہ کمپنی نئے طیاروں کے حصول کے لیے نظرثانی شدہ تجویز پی آئی اے کو فراہم کرے گی۔ فریقین نے طیاروں کی نسبتاً جلد فراہمی کے ممکنہ سلاٹس اور عبوری مدت کے لیے لیزنگ کے انتظامات تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ فنانسنگ سپورٹ، انجنوں کی خریداری، اسپیئر پارٹس، مینٹیننس اور گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کی بحالی جیسے عملی امور بھی شامل تھے۔ یہ نکات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بات چیت صرف نئے طیاروں کی خریداری تک محدود نہیں بلکہ موجودہ بیڑے کی آپریشنل دستیابی بہتر بنانے کے امکانات تک پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں کسی حتمی خریداری معاہدے، طیاروں کی تعداد، قیمت یا ڈیلیوری شیڈول کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے ملاقات میں پی آئی اے کی نجکاری کے عمل اور بڑے ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے ہوا بازی کی حفاظت سے متعلق صلاحیت سازی، ریگولیٹری رابطوں اور امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کے حوالے سے بوئنگ کے تعاون کو سراہا، جبکہ پاکستان کی طویل مدتی ایوی ایشن مارکیٹ میں ترقی کی گنجائش پر زور دیا۔
موجودہ پیش رفت کو پی آئی اے کے بیڑے کی جدید کاری کے لیے تجارتی اور مالی آپشنز پر جاری مشاورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بوئنگ کی نظرثانی شدہ تجویز، ممکنہ فنانسنگ اور لیزنگ کے انتظامات سامنے آنے کے بعد ہی کسی خریداری یا ڈیلیوری پروگرام کی حتمی شکل واضح ہو سکے گی۔

