لندن: مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور توانائی و جہاز رانی کے اثاثوں پر تازہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ بدھ کو برینٹ فیوچرز نے 101 ڈالر سے اوپر کی سطح بھی دیکھی، جو جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر کی علامتی حد عبور کرنے کی پیش رفت ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی کئی ماہ کی بلند سطح کے قریب پہنچی۔
قیمتوں میں تیزی کا بنیادی محرک خلیج سے تیل کی رسد میں مزید خلل کا خدشہ ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکا نے ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف کارروائی کی اطلاع دی۔ ایران نے اردن میں امریکی افواج کے زیر استعمال ایک اڈے پر میزائل داغنے کا بھی کہا۔ ان متقابل حملوں نے اس اہم بحری راستے کی سلامتی سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کیلئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ اور سکیورٹی خطرات کے باعث یہاں جہاز رانی پہلے ہی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران ایران سے منسلک حوثی فورسز کے سعودی عرب میں توانائی تنصیبات پر حملوں نے یہ خدشہ بڑھایا ہے کہ رسد کا بحران خلیج کے دوسرے بڑے پیدا کنندگان تک پھیل سکتا ہے۔
عالمی تیل کی قیمت میں اضافہ صرف توانائی مارکیٹ تک محدود اثر نہیں رکھتا۔ مہنگا خام تیل ایندھن، نقل و حمل اور صنعتی لاگت میں اضافے کے ذریعے مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے بڑی مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایشیا کے تیل درآمد کرنے والے ممالک کیلئے بلند قیمتیں تجارتی توازن اور مقامی ایندھن کی لاگت پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے 100 ڈالر سے اوپر کی سطح کو کسی مستقل قیمت کے بجائے بدھ کی تجارتی صورتحال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ سمت کا انحصار آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، سعودی توانائی تنصیبات کی سلامتی، امریکا ایران تنازع کی شدت اور عالمی ذخائر و متبادل رسد کی دستیابی پر ہوگا۔




