یکم اگست 2026 کو براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے معروف برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا اور ان کے ساتھ موجود نو دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔ مہم چلانے والی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈ نے کہا کہ 30 جولائی سے لاپتا دس رکنی بین الاقوامی ٹیم میں کوئی شخص زندہ نہیں بچا۔

حادثہ قراقرم کے براڈ پیک پر پیش آیا، جہاں برفانی تودے کے بعد ٹیم کا بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ جمعے کو زمینی امدادی کارکنوں نے چار اجساد کا سراغ لگایا اور تین کو نیچے منتقل کیا۔ ہفتے کو خراب موسم کے وقفوں میں تلاش دوبارہ شروع ہوئی اور پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹروں نے فضائی معاونت فراہم کی۔

ٹیم میں نیپال، پاکستان، عمان، امریکا، چین اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل تھے۔ ابتدائی بازیابی میں عمان کی نذیرہ احمد الحارثی کی میت اسلام آباد منتقل کی جا رہی تھی، جبکہ امریکی کوہ پیما میلوری گائس اور ایک نیپالی رکن کی باقیات اسکاردو کے اسپتال لے جائی گئیں۔ دیگر اجساد تک رسائی برف، ڈھلوان اور نئے تودے کے خطرے سے مشروط رہی۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر عرفان ارشد خان نے متاثرہ کوہ پیماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس سانحے کو عالمی کوہ پیمائی برادری کا بڑا نقصان قرار دیا۔ پاکستانی کوہ پیما سہیل سکھی بھی ٹیم میں شامل تھے۔ امدادی حکام نے خاندانوں کو معلومات پہنچانے اور شناخت کے عمل میں متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ رکھا۔

نرمل پرجا سابق برطانوی فوجی اور دنیا کے نمایاں بلند قامت کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 2019 میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں 189 دن میں سر کر کے اس وقت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ براڈ پیک خود تقریباً 8,051 میٹر بلند، دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی اور کے ٹو کے قریب واقع ہے۔

بعد کی 11 اور 13 اگست کی تفصیلات میں مرکزی بازیابی کارروائی ختم ہونے اور پھر سہیل سکھی کی میت ملنے کی اطلاع آئی۔ دونوں رپورٹس میں آٹھ اجساد کی مجموعی گنتی ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے باضابطہ نام وار فہرست کے بغیر قطعی بازیابی عدد درج نہیں کیا گیا۔ باقی اجساد کی حیثیت، شناخت اور خاندانوں کو حوالگی سے متعلق حتمی ریکارڈ الپائن کلب اور امدادی حکام سے آنا ضروری ہے۔