اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی غیر رسمی اور پنشن سے محروم افرادی قوت کے لیے پنشن اصلاحات سے متعلق کمیٹی نے ایک مجوزہ رضاکارانہ پنشن نظام کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کی، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں و انسانی وسائل، خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں گھریلو کارکنوں، زرعی مزدوروں، خود روزگار افراد اور دیگر ایسے کارکنوں کو پنشن نظام میں شامل کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا جو اس وقت رسمی پنشن کوریج سے باہر ہیں۔ زیر بحث نکات میں آجر، ملازم اور خود روزگار فرد کی ممکنہ شراکت، ڈیجیٹل رجسٹریشن، شفاف ریکارڈ رکھنے اور اسکیم کی طویل مدتی مالی پائیداری شامل تھی۔

سرکاری بیان کے مطابق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے ڈیجیٹل نظام کو مجوزہ رضاکارانہ اسکیم کے لیے ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر بھی زیر غور لایا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر توجہ دی کہ ایسا نظام کس طرح قابل رسائی رہتے ہوئے مالی طور پر پائیدار بنایا جا سکتا ہے اور اسے بین الاقوامی معیار اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں کہا کہ باوقار اور محفوظ ریٹائرمنٹ کا حق صرف رسمی شعبے کے کارکنوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق گھریلو، زرعی اور خود روزگار افراد سمیت غیر رسمی افرادی قوت کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانا ایک اہم ضرورت ہے۔

یہ پیش رفت ابھی پالیسی اور ماڈل سازی کے مرحلے میں ہے۔ سرکاری اعلامیے میں کسی حتمی اسکیم کے نفاذ، لازمی شرح شراکت، پنشن کی رقم، اہلیت کی مکمل شرائط یا آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کو حتمی پنشن پروگرام کی منظوری کے بجائے ممکنہ نظام کے ڈیزائن اور اصلاحاتی آپشنز کے جائزے کے طور پر سمجھنا درست ہوگا۔