اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے 3M پاکستان پر اسکاچ برائٹ کی مارکیٹنگ میں حریف مصنوعات میکس اسکرب کے ساتھ جھوٹا یا گمراہ کن تقابل کرنے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق متعلقہ مارکیٹنگ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی تھی۔ کارروائی کولگیٹ پام اولیو پاکستان کی شکایت پر شروع ہوئی تھی۔
شکایت میں کہا گیا تھا کہ اسکاچ برائٹ کی ایک مارکیٹنگ مہم کے دوران ویڈیو میں دونوں مصنوعات کو 20 منٹ تک دھونے کے بعد دکھایا گیا، جس میں میکس اسکرب کو نمایاں طور پر خراب جبکہ اسکاچ برائٹ کو نسبتاً بہتر حالت میں پیش کیا گیا۔ کولگیٹ پام اولیو نے اس تقابل کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسابقتی کمیشن سے رجوع کیا۔
انکوائری کے بعد کمیشن نے 3M پاکستان کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ کمپنی نے ویڈیو کی صداقت اور قابل اعتماد ہونے پر اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایک ملازم نے یہ مظاہرہ ذاتی حیثیت میں کیا تھا اور کمپنی نے اسے اجازت نہیں دی تھی۔ کمیشن نے تاہم ریکارڈ کی بنیاد پر قرار دیا کہ اس وقت کے ریجنل سیلز منیجر محمد عمران نے انکوائری کمیٹی کے سامنے تقابلی مظاہرہ کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
کمیشن کے مطابق یہ سرگرمی ملازم کی سرکاری ذمہ داریوں سے قریبی تعلق رکھتی تھی اور 3M پاکستان کی جانب سے چلائی جانے والی مارکیٹنگ مہم کے تناظر میں ہوئی، اس لیے اس عمل کو کمپنی سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن نے اصولی طور پر قرار دیا کہ حریف مصنوعات کا ایسا تقابل جس کے لیے معقول بنیاد یا قابل شناخت ثبوت موجود نہ ہو، جھوٹا یا گمراہ کن اشتہار بن سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 3M پاکستان اس تقابل کے دعوے کو مناسب شواہد سے ثابت نہیں کر سکی۔ کمیشن نے شکایت کنندہ کی جانب سے پیش کی گئی تیسرے فریق کی لیبارٹری رپورٹ کا بھی جائزہ لیا، جس میں ٹیسٹ کے بعد دونوں مصنوعات کو ملتے جلتے معیار کا قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 3M پاکستان کارروائی کے دوران اس لیبارٹری نتیجے کو مؤثر طور پر رد نہیں کر سکی۔
کمپیٹیشن کمیشن نے نتیجتاً کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 10(1) کو سیکشن 10(2)(c) کے ساتھ ملا کر خلاف ورزی قرار دی اور ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔ یہ فیصلہ تقابلی اشتہارات میں قابل تصدیق شواہد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً جب کسی حریف کی مصنوعات کو معیار یا پائیداری کے لحاظ سے کمتر دکھایا جا رہا ہو۔
