اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم کے کنٹریکٹر کے درمیان بولی کی قیمت سے متعلق اختلاف طے پا گیا ہے اور شہری ادارے نے 40 کروڑ روپے کی رعایت حاصل کر لی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں منصوبے کا سنگِ بنیاد آئندہ چند روز میں رکھنے کی توقع ہے۔
منصوبے کی پی سی ون لاگت 11.9 ارب روپے بتائی گئی تھی، جبکہ حبیب، زیڈ کے بی اور ای اے کے مشترکہ منصوبے نے 8.9 ارب روپے کی کم ترین بولی دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے سنگِ بنیاد سے قبل مزید رعایت چاہتا تھا، جبکہ کنٹریکٹر کا مؤقف تھا کہ مارچ میں بولی جمع کرانے کے بعد ڈیزل، پٹرول اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، اس لیے پہلے سے دی گئی قیمت میں کمی کا جواز نہیں بنتا۔ فریقین نے بالآخر 40 کروڑ روپے کی رعایت پر اتفاق کیا۔
سی ڈی اے کے رکن ماحولیات عبداللہ خرم نیازی نے رعایت کے حصول کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔ منصوبے کے مقام تک مارگلہ روڈ سے رسائی کے لیے اپروچ روڈ بھی مکمل ہو چکی ہے، جس کے بعد تعمیراتی مرحلے کے آغاز میں حائل دو اہم معاملات حل ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مجوزہ اسٹیڈیم تین درجوں پر مشتمل ہوگا، اس کی اونچائی 25 میٹر سے زیادہ ہوگی اور اس میں 35 ہزار سے زائد تماشائیوں کی گنجائش رکھی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں اسٹیڈیم اور تقریباً تین کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر شامل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لینڈ اسکیپنگ، بجلی کے کام اور گراؤنڈ و پچز کی تیاری کی جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے اس سے قبل امید ظاہر کی تھی کہ منصوبہ 2028 کے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے مکمل اور فعال ہو جائے تاکہ اسلام آباد میں بھی عالمی مقابلوں کی میزبانی ممکن ہو سکے۔ مقام سیکٹر ڈی-12 کے قریب زون تھری میں ہے؛ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ اس علاقے میں کھیلوں اور تفریحی سہولیات کی اجازت ہے اور اسٹیڈیم اسی زمرے میں آتا ہے۔
