ہانگ کانگ: جنوبی بحیرہ چین کے متنازع پیراسل جزائر میں اینٹی لوپ ریف پر چین کی جانب سے ایک بڑے رن وے کی تعمیر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 25 ستمبر کو تجارتی سیٹلائٹ کمپنی وینٹر کی لی گئی تصاویر میں زمین ہموار کرنے کا کام، بجری اور کنکریٹ کے ڈھیر، کمپیکشن کرینیں اور نئے تعمیر شدہ گھاٹ کی جانب جاتی سامان سے بھری بارج دیکھی گئی۔ فوجی اتاشیوں اور سکیورٹی ماہرین کا اندازہ ہے کہ مکمل ہونے پر یہ تنصیب خطے میں چین کے اہم آف شور اڈوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
اوپن سورس ڈیٹا پلیٹ فارم پی ایل اے ٹریکر کے بانی بین لوئس نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر تعمیر کی رفتار چین کے فائر ی کراس ریف منصوبے جیسی رہی تو رن وے 2027 کی پہلی ششماہی میں پختہ ہو سکتا ہے اور پہلی لینڈنگ سال کے وسط تک ممکن ہے۔ یہ ایک تجزیاتی اندازہ ہے، سرکاری تعمیراتی شیڈول نہیں۔ لوئس کے مطابق ابھی تک ایسی کھدائی کے واضح آثار نہیں ملے جو گولہ بارود یا ایندھن ذخیرہ کرنے کی بڑی تنصیبات کے لیے ضروری ہو سکتی ہے۔
چینی وزارت دفاع نے رائٹرز کی درخواست پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔ چین نے اینٹی لوپ پر نئی فوجی بیس کی تعمیر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ سرکاری میڈیا اس مقام کے شہری استعمال، جن میں موسم کی پیش گوئی، سمندری خدمات اور سائنسی تحقیق شامل ہیں، کا ذکر کرتا رہا ہے۔ اس لیے تنصیب کے حتمی فوجی کردار سے متعلق ماہرین کے جائزوں اور چین کے سرکاری مؤقف میں فرق موجود ہے۔
اینٹی لوپ ریف جنوبی بحیرہ چین کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق وہاں مکمل رن وے چینی بحری اور فضائی فورسز کی آپریشنل رسائی بڑھا سکتا ہے اور ہائنان جزیرے کی جانب آنے والے راستوں کی نگرانی میں مدد دے سکتا ہے۔ ہائنان میں چین کے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزوں کے اڈے بھی موجود ہیں۔
پیراسل جزائر پر چین کے علاوہ ویتنام اور تائیوان بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ چین نے 1974 میں جنوبی ویتنام کی افواج کو مختصر لڑائی کے بعد ان جزائر سے نکال کر کنٹرول قائم کیا تھا، جس پر ہنوئی اعتراض کرتا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ویتنام اور تائیوان کے متعلقہ اداروں نے تازہ تعمیراتی پیش رفت پر فوری جواب نہیں دیا۔
