چین نے کہا ہے کہ وہ یورپ میں اپنی آٹو کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ گاڑیوں کے شعبے سے متعلق اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ چینی وزیر تجارت وانگ وین تاؤ نے 22 ستمبر 2026 کو جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ ایک ایسا حل چاہتا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول اور تعمیری ہو۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چینی کار ساز کمپنیاں یورپ میں فیکٹریوں کے لیے مقامات تلاش کر رہی ہیں۔ یورپی یونین مقامی مواد اور پیداوار سے متعلق قواعد متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ چین کو یورپ میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات محدود کرنے کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

چینی وزارت تجارت کے مطابق وانگ وین تاؤ نے کہا کہ چین، چین-یورپی یونین تجارتی مشاورتی نظام کے تحت گاڑیوں کے شعبے کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بات چیت میں ضابطوں کی پابندی، توازن اور غیر امتیازی رویے کے اصولوں کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ وانگ نے تحفظ پسندانہ اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹوں کو محدود یا بند کرنے سے عالمی تجارت مزید تقسیم ہو سکتی ہے۔

چینی وزیر تجارت نے یہ بات جرمن آٹو موٹیو انڈسٹری ایسوسی ایشن کی سربراہ ہلڈیگارڈ مولر کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرسڈیز بینز کے چیف ایگزیکٹو اولا کیلینیئس کے ساتھ ویڈیو رابطے میں یورپی آٹو کمپنیوں کو چین میں مزید سرمایہ کاری اور چینی کمپنیوں کے ساتھ اختراعی شراکت داری بڑھانے کی دعوت بھی دی۔

یورپی یونین نے چین میں تیار ہونے والی بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی محصولات عائد کر رکھے ہیں، جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں ان اضافی محصولات کے دائرے میں نہیں آتیں۔ اسی وجہ سے ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات اور یورپ میں مقامی پیداوار کے منصوبے دونوں فریقوں کے تجارتی مذاکرات میں اہم موضوع بنتے جا رہے ہیں۔

چین نے کسی مخصوص نئی یورپی فیکٹری یا سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان نہیں کیا، تاہم اس کا تازہ مؤقف واضح کرتا ہے کہ بیجنگ یورپ میں چینی آٹو مینوفیکچرنگ کی موجودگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ تجارتی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے محدود رکھنا چاہتا ہے۔