واشنگٹن: امریکی خبر رساں اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کے احاطے تک اپنی رسائی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اعلان کردہ پابندی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تینوں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے آئینی حقوق اور آزادی صحافت سے متعلق تحفظات کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کا دفاع سیاسی اور میڈیا تنازعے کا حصہ بن گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق تینوں خبر رساں اداروں نے امریکی حکومت کو مطلع کیا کہ وہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی ضلعی عدالت میں قانونی کارروائی شروع کر رہے ہیں۔ اداروں نے کہا کہ وہ فرسٹ امینڈمنٹ کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی مداخلت چاہتے ہیں۔ مقدمے میں فوری نوعیت کی سماعت بھی ممکن ہے، کیونکہ وائٹ ہاؤس تک رپورٹروں کی رسائی روزمرہ کی کوریج اور سرکاری بریفنگز کے لیے عملی اہمیت رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان اداروں کے خلاف پابندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے بعد یہ سوال اٹھا کہ حکومت کسی خبر رساں ادارے کی رسائی محدود کرنے کے لیے کن معیارات اور قانونی بنیادوں کا سہارا لے سکتی ہے، اور کیا ایسی پابندی ادارے کے ادارتی مؤقف یا کوریج سے متعلق اختلاف کے تناظر میں آئینی جانچ پر پورا اترتی ہے۔ ان سوالات کا حتمی جواب عدالت کی کارروائی اور فیصلے سے ہی سامنے آئے گا۔
میڈیا اداروں کی جانب سے دائر مقدمہ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ پابندی غیر قانونی قرار دی جا چکی ہے۔ یہ مدعی اداروں کا قانونی مؤقف ہے جس پر حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ عدالت ممکنہ طور پر رسائی کے قواعد، حکومت کی اختیار کردہ وجہ، صحافتی آزادی اور سابق عدالتی نظائر کا جائزہ لے گی۔ جب تک کوئی عبوری یا حتمی حکم جاری نہیں ہوتا، فریقین کے دعوے قانونی تنازعے کا حصہ رہیں گے۔
امریکا میں وائٹ ہاؤس پریس رسائی پر ماضی میں بھی تنازعات عدالتوں تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے موجودہ کیس میڈیا اور انتظامیہ کے تعلقات کے حوالے سے اہم نظیر بن سکتا ہے۔ تازہ مقدمہ خاص طور پر اس لیے قابل توجہ ہے کہ تین بڑے خبر رساں اداروں نے مشترکہ طور پر پابندی کو چیلنج کیا ہے اور اسے آئینی آزادیوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
