نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس سے ملاقات میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس تجارتی سہولت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ملاقات 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری، بالخصوص تجارت اور اقتصادی تعاون، کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کو پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات میں ایک اہم عنصر قرار دیا۔ دونوں جانب سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق بھی کیا گیا۔

جی ایس پی پلس یورپی یونین کی ترجیحی تجارتی اسکیم ہے جس کے تحت اہل ممالک کی متعدد مصنوعات کو یورپی منڈی میں کم یا صفر درآمدی ڈیوٹی کی سہولت ملتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ انسانی حقوق، محنت، ماحول اور گورننس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کی شرائط وابستہ ہوتی ہیں۔ پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ملبوسات، کے لیے یورپی منڈی ایک بڑا مقام ہے، اس لیے حکومت اس تجارتی رسائی کو اپنی برآمدی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔

ملاقات میں صرف تجارت ہی زیر بحث نہیں رہی بلکہ دونوں فریقوں نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران یورپی یونین کی سفارتی شمولیت اور کشیدگی کم کرنے سے متعلق پاکستانی کوششوں کو تسلیم کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے بات چیت اور سفارت کاری کی طرف واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ نائب وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مکمل نفاذ کی ضرورت کا ذکر کیا، جسے حکومت علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے جوڑتی ہے۔ اس حوالے سے دستیاب بیان میں کسی نئی یورپی پالیسی، تجارتی رعایت یا جی ایس پی پلس کے فوری اسٹیٹس میں تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین نے ایک روز قبل ترقی، توانائی، قانون کی حکمرانی اور کاروباری ماحول سے متعلق 65 ملین یورو کے الگ گرانٹ معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ دونوں واقعات نوعیت میں مختلف ہیں: ایک ترقیاتی فنڈنگ پیکیج ہے جبکہ نیویارک کی ملاقات کا مرکزی محور سیاسی و تجارتی رابطہ، جی ایس پی پلس اور علاقائی سفارت کاری تھا۔

آئندہ مرحلے میں جی ایس پی پلس سے متعلق کسی بھی عملی پیش رفت کا انحصار یورپی یونین کے باقاعدہ جائزہ اور پاکستان کی متعلقہ ذمہ داریوں پر ہوگا۔ موجودہ ملاقات نے دونوں جانب سے قریبی رابطہ جاری رکھنے کے سیاسی عزم کو نمایاں کیا ہے، مگر کسی نئی تجارتی شرط یا رعایت کی تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی۔