نیویارک: پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ریجنل-4 یا آر-4 گروپ کے اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا کہ آر-4 وزرا نے علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا اور امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے آر-4 فریم ورک کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے مسلسل مشاورت ضروری ہے۔

اجلاس میں فلسطینی عوام کے حقوق پر بھی مشترکہ موقف دہرایا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق چاروں ممالک نے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ اس موقف کو متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے جوڑا گیا۔

اس سے قبل اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر او آئی سی کمیٹی آف سکس برائے فلسطین کے اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے او آئی سی رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے زیادہ مربوط سفارتی حکمت عملی اپنائی جائے۔

ڈار نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق سے متعلق اقدامات پر پاکستان کے تحفظات بیان کیے۔ یہ بیانات پاکستان کی سرکاری خارجہ پالیسی کے موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت ان میں سے بعض قانونی اور سیاسی تشریحات سے اختلاف کرتی رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے متعدد ادارے اور بین الاقوامی فورمز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کے قانونی جواز پر تنقید کر چکے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے انتظامات کو فلسطینی قیادت میں رکھنے اور فلسطینی اتھارٹی کے مرکزی کردار کی حمایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی عمل کا مقصد ایک واضح مدت کے اندر خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش رفت ہونا چاہیے۔

آر-4 اجلاس اور او آئی سی کمیٹی کی سرگرمیاں سفارتی مشاورت اور مشترکہ پالیسی بیانات کی سطح پر ہیں؛ ان اجلاسوں میں کسی نئے جنگ بندی معاہدے یا نفاذی میکانزم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان کی عملی اہمیت اس بات میں ہے کہ چار اہم علاقائی ممالک نے پُرامن حل، فلسطینی ریاست اور جاری سفارتی کوششوں کے لیے مشترکہ سیاسی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔