چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں بریفنگ دینے کے لیے مدعو کیا گیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات اور بین الاقوامی سلامتی پر اس کے اثرات زیر بحث آئیں گے۔ رائٹرز کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس بدھ کو نیویارک میں ہونے والا ہے، جہاں عالمی رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے لیے بھی موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین اجلاس کو بریف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ سفارت کاروں کو اینتھروپک کے سینئر نمائندوں کی شرکت کی بھی توقع ہے۔ ڈیپ سیک کے علاوہ ایک اور چینی اے آئی کمپنی مون شاٹ کو بھی بیان دینے کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم ذرائع نے خبردار کیا کہ اجلاس کے حتمی انتظامات میں آخری وقت تک تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کے ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کا منصوبہ نہیں بتایا گیا۔

سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی سلامتی سے متعلق خطرات پر پہلی مرتبہ 2023 میں باضابطہ اجلاس کیا تھا۔ اس وقت چین نے خبردار کیا تھا کہ ٹیکنالوجی کو بے قابو انداز میں آگے نہیں بڑھنا چاہیے، جبکہ امریکا نے اس کے ممکنہ استعمال کو سنسرشپ اور جبر سے جوڑتے ہوئے احتیاط پر زور دیا تھا۔ تازہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں اور حکومتوں میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ طاقتور ماڈلز کی صلاحیتیں کس حد تک تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کس نوعیت کی عالمی نگرانی درکار ہے۔

حالیہ ہفتوں میں بعض اے آئی صنعت کے رہنماؤں نے جدید نظاموں کی ترقی کی رفتار پر بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی کی اپیل کی ہے، جبکہ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ترقی کی رفتار کم کرنے کی بعض تجاویز کو امریکی تکنیکی برتری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ اختلاف عالمی اے آئی حکمرانی کے وسیع تر سیاسی اور معاشی تناظر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کے خطرات پر توجہ دلانے کے حامی رہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں ڈیپ سیک، اوپن اے آئی اور دیگر کمپنیوں کی شرکت اس بحث کو براہ راست ٹیکنالوجی بنانے والوں اور عالمی سلامتی کے ذمہ دار سفارت کاروں کے درمیان لے آئے گی۔ اجلاس سے کسی پابند عالمی ضابطے کا فوری اجرا متوقع نہیں، لیکن یہ مستقبل کے بین الاقوامی اصولوں، خطرات کے مشترکہ جائزے اور سرحد پار تعاون سے متعلق بحث کے لیے اہم فورم بن سکتا ہے۔