ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں امان میلہ پولیس چیک پوسٹ کو 26 ستمبر کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق علاقائی پولیس افسر غلام مبشر میکن نے ابتدائی جائزے کی بنیاد پر بتایا کہ بارود سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے۔ ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین احمد نے واقعے کو خودکش دھماکا قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں شہری اور ایک کسٹمز اہلکار شامل تھے، جبکہ پولیس یا سکیورٹی فورسز کے کسی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دھماکے سے چیک پوسٹ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا اور اس سے ملحق ایک مکان بھی مکمل طور پر منہدم ہوا۔ امان میلہ چیک پوسٹ مغل کوٹ اور درازندہ کے قریب ڈی آئی خان۔کوئٹہ روڈ پر واقع ہے اور پولیس اسے سکیورٹی اور چیکنگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کی نوعیت اور استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد کے تعین کے لیے بم ڈسپوزل ٹیم بھی روانہ کی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائی مکمل کرنے کے لیے متعدد اہلکار، ایمبولینسیں اور فائر وہیکل استعمال کیے گئے، جبکہ زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کیا گیا۔
اسی واقعے کے بعد ایک الگ حملے میں ریسکیو 1122 کی وہ ایمبولینس فائرنگ کی زد میں آئی جو دھماکے کے متاثرین کی لاشیں منتقل کر رہی تھی۔ ریسکیو ادارے کے مطابق شریف اللہ اور امتیاز نامی دو کارکن جاں بحق جبکہ انیس زخمی ہوئے۔ یہ فائرنگ امان میلہ کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے کی۔ اس طرح چیک پوسٹ دھماکے اور بعد کی ایمبولینس فائرنگ کو الگ واقعات کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے اور ہلاکتوں کے اعداد بھی اسی تفریق کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کی اور زخمیوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سرکاری بیانات میں حملے کی ذمہ داری سے متعلق اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، تاہم اس رپورٹ میں کسی گروہ کی ذمہ داری کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے تناظر میں پولیس اور سکیورٹی اداروں نے انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کی ہیں۔
