پاکستان کی مسلح افواج نے دفاع و یومِ شہدا کے موقع پر ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے، تاہم اس مؤقف کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے 6 ستمبر 2026 کو جاری بیان کے مطابق کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا اور مسلح افواج کی جانب سے پاکستان کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ عسکری قیادت نے غازیوں اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے بھی احترام اور تشکر کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 6 ستمبر قومی تاریخ میں اتحاد، جرات اور عزم کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ بیان میں 1965 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس موقع پر قوم نے ملکی دفاع کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ مسلح افواج نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں فرض، عزت اور ایثار کی اعلیٰ مثال ہیں جبکہ غازیوں کی خدمات اور شہدا کے خاندانوں کا حوصلہ قومی قوت کا مستقل سرچشمہ ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے۔ ساتھ ہی دفاعی تیاری کے بارے میں واضح کیا گیا کہ افواج ملکی سرحدوں، خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دفاع و یومِ شہدا پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ سرکاری اور عسکری تقریبات میں شہدا کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور مسلح افواج کی دفاعی ذمہ داریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس سال کے پیغام میں عسکری قیادت نے پیشہ ورانہ ذمہ داری، قومی اتحاد اور دفاعی عزم کو مرکزی نکات کے طور پر نمایاں کیا۔




