اسلام آباد: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں چوری اور لائن لاسز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی بین الوزارتی کمیٹی نے تمام ڈسکوز کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے بدھ کو بجلی چوری روکنے، تقسیم کے نقصانات کم کرنے اور کمپنیوں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
فیصلے کے مطابق آڈٹ کا مقصد بجلی چوری کی حقیقی مقدار، اس کی بنیادی وجوہات اور ان علاقوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں چوری یا نقصانات زیادہ مرتکز ہیں۔ اس کے ساتھ تکنیکی نقصانات، جو بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں انفراسٹرکچر یا نیٹ ورک کی وجوہات سے پیدا ہوتے ہیں، اور تجارتی نقصانات، جن کا تعلق بلنگ، وصولی یا غیر قانونی استعمال سے ہو سکتا ہے، الگ الگ جانچے جائیں گے۔
پاکستان کا بجلی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرض، کم وصولیوں، لائن لاسز اور چوری جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں کم وصولی اور زیادہ نقصانات مالی دباؤ بڑھاتے ہیں۔ جامع تکنیکی آڈٹ سے حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مسئلے کا کتنا حصہ نیٹ ورک کی کمزوری، میٹرنگ، انتظامی خامیوں یا غیر قانونی کنکشنز سے جڑا ہے۔
آڈٹ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر مخصوص علاقوں اور کمپنیوں کے لیے الگ اصلاحی اقدامات وضع کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں میٹرنگ بہتر بنانا، فیڈرز کی نگرانی، نیٹ ورک اپ گریڈ، بلنگ اور وصولی کے نظام کی اصلاح اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کارروائی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی سفارشات آڈٹ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
کمیٹی کا فیصلہ فی الحال آڈٹ شروع کرنے سے متعلق ہے، اس لیے بجلی چوری یا نقصانات کے حتمی اعداد ابھی طے نہیں ہوئے۔ آڈٹ کی شفافیت، طریقہ کار اور نتائج پر عملدرآمد اس اقدام کی مؤثریت کے لیے اہم ہوں گے۔
