ہیڈنگلے میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے بارش سے متاثرہ دوسرے دن کے اختتام پر انگلینڈ نے آٹھ وکٹوں پر 366 رنز بنا کر 195 رنز کی برتری حاصل کرلی۔ ڈان اور آج انگلش میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پہلی اننگز 171 رنز پر ختم ہوئی تھی، جس کے بعد انگلینڈ کے متعدد بلے بازوں نے نصف سنچریاں بنا کر میزبان ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔
ہیری بروک نے 93 گیندوں پر 13 چوکوں کی مدد سے 91 رنز بنائے۔ انہیں اننگز کے آغاز میں ایک رن پر موقع ملا جب خرم شہزاد کی گیند پر دوسری سلپ میں کپتان سلمان علی آغا مشکل کیچ مکمل نہ کر سکے۔ بروک نے بعد میں ڈین لارنس کے ساتھ 120 رنز کی شراکت قائم کی، مگر سنچری سے نو رنز پہلے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
جو روٹ نے 66، جارڈن کاکس نے 73 اور ڈین لارنس نے 51 رنز بنائے۔ کاکس اور روٹ کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 150 رنز کی شراکت ہوئی، جس نے انگلینڈ کو ابتدائی دباؤ سے نکالا۔ دونوں بلے باز یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو واپسی کا موقع ملا، لیکن بعد کی شراکتوں نے برتری میں مسلسل اضافہ کیا۔
پاکستان کی جانب سے علی عثمان سب سے کامیاب بولر رہے۔ انہوں نے 23 اوورز میں 92 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے تیسرے ٹیسٹ میں پہلی پانچ وکٹوں کی کارکردگی ہے۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں گس ایٹکنسن اور اولی رابنسن کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کیا، تاہم جوفرا آرچر نے ہیٹ ٹرک کی گیند روک لی۔ خرم شہزاد کو جو روٹ کی اہم وکٹ ملی، مگر ان کے 19 اوورز میں 111 رنز بنے۔
صبح کا کھیل بارش کے باعث مکمل طور پر ضائع ہوا تھا اور انگلینڈ نے 112 رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے اننگز دوبارہ شروع کی۔ پہلے روز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے پاکستان کی تمام دس وکٹیں آپس میں تقسیم کی تھیں۔ دوسرے دن پچ اور موسم نے وقفے وقفے سے مختلف چیلنج دیے، لیکن انگلینڈ نے دستیاب وقت میں رن ریٹ برقرار رکھا۔
میچ ابھی جاری ہے اور 195 رنز کی برتری حتمی نتیجہ نہیں۔ پاکستان کے لیے تیسرے دن کا پہلا ہدف باقی دو وکٹیں جلد حاصل کرنا اور دوسری اننگز میں طویل شراکتیں قائم کرنا ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز اس خبر میں صرف دوسرے دن کے اختتام تک کے تصدیق شدہ اسکور اور نمایاں کارکردگی شامل کر رہا ہے؛ بعد کی پیش رفت الگ اپ ڈیٹ میں شامل ہوگی۔




