گلگت: یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمونڈاس کروبلیس نے گلگت بلتستان میں دو اہم پالیسی منصوبوں کا آغاز کیا ہے جن میں جی بی کاربن اسٹریٹیجی اینڈ ایکشن پلان اور مجوزہ ایگریکلچر پالیسی اینڈ ایکشن پلان 2027 تا 2036 شامل ہیں۔ دونوں دستاویزات گلگت بلتستان حکومت کے لیے یورپی یونین کے پالیسی سپورٹ پروگرام کے تحت تیار کی گئی ہیں۔

ڈان کے مطابق کاربن اسٹریٹیجی اور ایکشن پلان کی تقریب گلگت سیکریٹریٹ کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔ اس منصوبے کا مقصد خطے میں کاربن اخراج، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق حکومتی منصوبہ بندی کے لیے ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ گلگت بلتستان برفانی ذخائر، پہاڑی ماحولیاتی نظام اور موسمیاتی خطرات کے باعث پاکستان کے حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔

یورپی یونین کے سفیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا، ماحول کا تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی یورپی یونین کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کے اس مرحلے کے بعد یورپی یونین گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تکنیکی اور مالی تعاون بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ حکمت عملی پر عمل درآمد میں مدد دی جا سکے۔

کاربن منصوبے کے ساتھ مجوزہ زرعی پالیسی اور ایکشن پلان 2027 تا 2036 بھی پیش کیا گیا ہے۔ طویل مدتی زرعی پالیسی کا مقصد خطے کی زرعی معیشت کو موسمیاتی دباؤ، پانی کی دستیابی، پیداوار اور پائیدار ترقی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے پالیسی سمت فراہم کرنا ہے۔ اس مرحلے پر اسے پالیسی اور ایکشن پلان کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور عملی نتائج اس کے نفاذ، مالی وسائل اور ادارہ جاتی اقدامات پر منحصر ہوں گے۔

یورپی یونین کے پالیسی سپورٹ پروجیکٹ کے کاربن ماہر اشہب اللہ بیگ نے تقریب میں کاربن اسٹریٹیجی کی اہم خصوصیات اور ترجیحات پر بریفنگ دی۔ منصوبے کا بنیادی زور ایسی حکمت عملی پر ہے جس کے ذریعے ماحولیاتی اہداف کو ترقیاتی منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا جا سکے۔

یہ دونوں اقدامات گلگت بلتستان میں حالیہ موسمیاتی اور ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ خطے میں موسمیاتی لچک، توانائی، زراعت اور قدرتی وسائل سے متعلق متعدد منصوبے زیر بحث یا عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔ نئی پالیسی دستاویزات کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب ان کے اہداف کو بجٹ، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور قابلِ پیمائش عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔