یورپی یونین اور فلپائن نے نئے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے ایک اہم ابتدائی اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے، جسے دونوں فریق اپنی اقتصادی شراکت داری کو گہرا کرنے اور سپلائی چینز کو متنوع بنانے کی سمت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ 22 ستمبر 2026 کو برسلز میں سامنے آنے والی پیش رفت کے بعد یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیین نے اعلان کیا کہ دونوں فریق آزاد تجارتی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم یورپی حکام نے بعد میں واضح کیا کہ یہ حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی یا بنیادی اتفاق ہے اور مکمل متن پر مزید بات چیت باقی ہے۔
یورپی یونین کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار ماروش شیفچووچ کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد 27 رکنی یورپی بلاک اور تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے فلپائن کے درمیان سالانہ تقریباً 30 ارب یورو کی تجارت کو مزید وسعت دینا ہے۔ دونوں جانب کی تجارت میں الیکٹرانکس کا بڑا حصہ ہے۔ یورپی یونین فلپائن کو طیارے، ادویات اور بعض غذائی مصنوعات برآمد کرتی ہے، جبکہ فلپائن سے سیمی کنڈکٹرز، انٹیگریٹڈ سرکٹس اور صنعتی مشینری درآمد کی جاتی ہے۔
شیفچووچ نے کہا کہ معاہدہ برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، سپلائی چینز مضبوط بنانے اور طویل مدتی دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مکمل معاہدہ ایک سے دو سال میں حتمی شکل پا سکتا ہے، جس کے بعد دونوں جانب متعلقہ پارلیمانی منظوری بھی درکار ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی یونین روایتی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتی جغرافیائی اور اقتصادی کشیدگی کے درمیان نئے تجارتی روابط تلاش کر رہی ہے۔ یورپی کمیشن تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ بھی الگ الگ تجارتی مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ آسیان کے ساتھ وسیع تر آزاد تجارتی معاہدہ طویل مدتی ہدف کے طور پر برقرار ہے۔
ابتدائی اتفاق کے باوجود ٹیرف، مارکیٹ رسائی، قواعد و ضوابط اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی مذاکرات باقی ہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو مکمل نافذ شدہ تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ حتمی ڈیل کی جانب ایک بڑا مذاکراتی مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔

