اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ’’ڈیجیٹل آئی‘‘ نظام پاکستان کی تمام 27 سیمنٹ فیکٹریوں میں فعال کر دیا ہے، جہاں یہ پیداواری لائنوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کر کے ٹیکس حکام کو پیداوار کا ایک آزاد ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ٹیکس تعمیل بہتر بنانا اور دستی معائنے و کاغذی کارروائی پر انحصار کم کرنا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ڈیجیٹل آئی کا ابتدائی پائلٹ 2023 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ جدید ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے پیداواری عمل کو مانیٹر کرتا ہے اور ایف بی آر کے موجودہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ساتھ متوازی طور پر کام کرتا ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس تیار شدہ مصنوعات کے پیداواری لائن سے نکلنے کا ریکارڈ رکھتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل آئی پیداوار کو الگ ذریعے سے مانیٹر کرتا ہے۔ دونوں ریکارڈز کا تقابل رپورٹ شدہ پیداوار کی جانچ میں مدد دیتا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ایف بی آر کے سینئر حکام کے ساتھ فیکٹو سیمنٹ کا دورہ کر کے نظام کا عملی جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق برطانیہ نے تکنیکی مہارت کے ذریعے اس منصوبے کی معاونت کی، جبکہ ٹیکنالوجی ایک پاکستانی کمپنی نے تیار کی اور اسے آزمائش، بہتری اور مرحلہ وار توسیع کے بعد ملک بھر میں نافذ کیا گیا۔
ایف بی آر کے چیف آف ریفارمز اینڈ ماڈرنائزیشن ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ حقیقی وقت پیداوار کی نگرانی نے سیمنٹ اور چینی کے شعبوں میں تعمیل بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق اگلا مرحلہ نظام کی درستگی مزید بہتر کرنا، ایف بی آر ٹیموں کی مہارت بڑھانا اور اس طریقہ کار کو دیگر شعبوں تک توسیع دینا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وسیع تر اصلاحات کے نتیجے میں سیمنٹ سیکٹر سے 32 ارب روپے کی ریکوری ہوئی اور حالیہ کرشنگ سیزن میں ریکارڈ شدہ چینی کی پیداوار 31 فیصد بڑھی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ نتائج متعدد پالیسی اور تعمیل اقدامات کا مجموعی اثر ہیں اور انہیں صرف ڈیجیٹل آئی نظام سے منسوب نہیں کیا گیا۔
برطانوی ہائی کمشنر نے اس منصوبے کو پاکستان اور برطانیہ کے تکنیکی تعاون کی مثال قرار دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق افریقی ممالک میں بھی اس تجربے میں دلچسپی سامنے آئی ہے، جہاں ٹیکس تعمیل کے جدید طریقوں کے لیے پاکستان کے ماڈل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اے آئی پر مبنی نگرانی کے اس نظام کی مؤثریت کا طویل مدتی اندازہ ٹیکس وصولیوں، رپورٹ شدہ اور حقیقی پیداوار کے فرق، غلط مثبت نتائج، ڈیٹا کی درستگی اور کاروباری اداروں کے ساتھ تنازعات جیسے عوامل سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ ڈیجیٹل آئی تمام 27 سیمنٹ فیکٹریوں تک توسیع پا چکا ہے اور ایف بی آر اسے اپنے ٹیکس مانیٹرنگ نظام کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔

