اردو ہیڈلائنز ڈیسک — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز سے متعلق بعض اختیارات تفویض کردیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے تحت کوسٹ گارڈ کو مقررہ دائرہ کار میں کسٹمز قوانین کے نفاذ اور متعلقہ کارروائیوں کے لیے قانونی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ساحلی علاقوں میں نگرانی اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
پاکستان کی طویل ساحلی پٹی اور بندرگاہوں کے اطراف مختلف ادارے سرحدی اور تجارتی نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ کسٹمز حکام درآمدات، برآمدات، محصولات اور ممنوع یا غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت سے متعلق قوانین نافذ کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کوسٹ گارڈ ساحلی علاقوں میں سکیورٹی اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں کردار ادا کرتا ہے۔ اختیارات کی تفویض سے دونوں اداروں کے درمیان عملی تعاون کے دائرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے دیے گئے اختیارات مخصوص قانونی اور انتظامی حدود کے اندر استعمال کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام کسٹمز ذمہ داریاں کوسٹ گارڈ کے حوالے کردی گئی ہیں بلکہ بعض متعین اختیارات ایسے علاقوں اور حالات میں استعمال کیے جاسکیں گے جہاں کوسٹ گارڈ پہلے ہی نگرانی اور نفاذ کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔
ساحلی راستوں کے ذریعے غیر قانونی سامان کی نقل و حرکت محصولات کے نقصان کے ساتھ سکیورٹی اور قانونی مسائل بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے مختلف نفاذی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ کارروائی اور قانونی اختیارات کی وضاحت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ کسٹمز اختیارات کی تفویض سے مشتبہ سامان کی روک تھام، ضبطی اور متعلقہ قانونی کارروائی کے مراحل کو زیادہ منظم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایف بی آر وفاقی سطح پر کسٹمز اور داخلی محصولات سے متعلق مرکزی ادارہ ہے، اس لیے کسی دوسرے ادارے کو کسٹمز اختیارات کی تفویض متعلقہ قانونی فریم ورک اور سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت کی جاتی ہے۔ کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کو بھی یہ اختیارات اسی مقررہ حدود اور قواعد کے مطابق استعمال کرنا ہوں گے۔
اس فیصلے کے عملی اثرات آئندہ ساحلی علاقوں میں کسٹمز قوانین کے نفاذ اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں سامنے آئیں گے۔ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، قانونی طریقہ کار کی پابندی اور کارروائیوں کا درست ریکارڈ اس انتظام کی کامیابی کے لیے اہم ہوگا۔




