اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان کسٹمز کے نظام کو بلاک چین پر مبنی کراس ویریفکیشن پلیٹ فارم ValidAP کے ساتھ مربوط کر دیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس انضمام کا مقصد ڈیجیٹل تجارت کو زیادہ محفوظ بنانا، الیکٹرانک دستاویزات کی اصلیت کی تصدیق آسان کرنا اور کاغذی و دستی جانچ پر انحصار کم کرنا ہے۔
ValidAP ہانگ کانگ کسٹمز نے تیار اور ہوسٹ کیا ہے، جبکہ پاکستان میں اس کا انضمام پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے فعال کیا گیا۔ یہ پیش رفت 18 مئی کو پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ہوئی۔
نظام کے ذریعے شریک کسٹمز اور ریگولیٹری ادارے پاکستان سنگل ونڈو سے جاری ہونے والی الیکٹرانک تجارتی دستاویزات، جن میں سینیٹری و فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹس اور برآمدی اجازت نامے شامل ہیں، کی صداقت اور سالمیت چیک کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تصدیق کے لیے مکمل بنیادی دستاویز یا اس کا تمام ڈیٹا دوسری طرف منتقل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
پلیٹ فارم کرپٹوگرافک ہیش پر مبنی تصدیقی طریقہ استعمال کرتا ہے۔ کسی رجسٹرڈ دستاویز میں بعد میں تبدیلی کی صورت میں ہیش مختلف ہو جاتا ہے، جس سے چھیڑ چھاڑ یا جعل سازی کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس سے دستاویزات کی جانچ تیز ہوگی اور تجارتی عمل میں اعتماد بڑھے گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تصدیق سے کنسائنمنٹ کلیئرنس اور بندرگاہوں پر کارگو کے قیام کا وقت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور تاجروں پر اضافی لاگت نہیں ڈالی جائے گی۔ عملی فوائد کا مکمل اندازہ نظام کے استعمال اور مختلف تجارتی شراکت داروں کی شرکت بڑھنے کے بعد واضح ہوگا، تاہم موجودہ انضمام پاکستان کے کسٹمز نظام میں بلاک چین پر مبنی سرحد پار دستاویزی تصدیق کا باقاعدہ عملی قدم ہے۔
