اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کمشنرز ان لینڈ ریونیو کے ٹیکس دہندگان سے براہ راست رابطے کے ذریعے یکطرفہ آڈٹ اور اسیسمنٹ کے صوابدیدی اختیارات واپس لے کر متعلقہ کارروائیاں نیشنل فیس لیس سینٹر کے تحت منتقل کردی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او 1665(I)/2026 کے ذریعے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کی ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 177 یا 214C کے تحت آڈٹ، دفعہ 111 سے متعلق کارروائیاں اور متعلقہ اسیسمنٹ فیس لیس انداز میں سینٹر کے ذریعے انجام دی جائیں گی، جہاں کیس بورڈ کی جانب سے مقررہ قانونی طریقے کے تحت سینٹر کو تفویض کیا گیا ہو۔
ایف بی آر نے نیشنل فیس لیس سینٹر کے اندر آڈٹ ونگ، اسیسمنٹ ونگ، کوالٹی کنٹرول ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ قائم کیے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سینٹر میں ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ضرورت کے مطابق چیف کمشنرز، کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت انکم ٹیکس حکام شامل ہوسکتے ہیں۔
فیس لیس کارروائی کے دائرے میں آڈٹ اور اسیسمنٹ کے علاوہ متعلقہ نوٹس، معلومات اور شواہد حاصل کرنے اور کارروائی سے پیدا ہونے والی جرمانے یا ڈیفالٹ سرچارج کی کارروائیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ مقصد ٹیکس انتظامیہ میں براہ راست انفرادی تعامل کم کرکے کیس پروسیسنگ کو ادارہ جاتی نظام کے تحت لانا ہے۔
یہ تبدیلی ٹیکس دہندگان کے قانونی حقوق یا اپیل کے دستیاب راستوں کو خودبخود ختم نہیں کرتی؛ اس کا بنیادی تعلق انتظامی طریقہ کار اور کیس ہینڈلنگ سے ہے۔ نئے نظام کی عملی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ کیس تفویض، جواب دہی، معیار کی جانچ اور فیصلوں کی رفتار کس طرح کام کرتی ہے۔
ایف بی آر کی یہ اصلاح ٹیکس انتظامیہ میں ڈیجیٹل اور فیس لیس طریقوں کے بڑھتے استعمال کا حصہ ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد متعلقہ کیسز میں براہ راست صوابدید کے بجائے مقررہ سینٹر اور اس کے مختلف ونگز کے ذریعے کارروائی کی جائے گی۔
