فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر، کے دوران 4.089 ٹریلین روپے کے محصولات جمع کیے ہیں، جو اس مدت کے 4.185 ٹریلین روپے کے مقررہ ہدف سے 96 ارب روپے کم ہیں۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.840 ٹریلین روپے جمع ہوئے تھے، یوں مجموعی وصولیوں میں سال بہ سال تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا، لیکن یہ اضافہ طے شدہ ہدف پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہا۔

صرف اکتوبر 2026 میں محصولات 1.003 ٹریلین روپے رہے، جبکہ ماہانہ ہدف 1.132 ٹریلین روپے مقرر تھا۔ اس طرح اکتوبر کی وصولیاں ہدف سے 102 ارب روپے کم رہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں 951 ارب روپے جمع کیے گئے تھے، جس کے مقابلے میں اس سال ماہانہ وصولیوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محصولات کی مختلف مدوں میں کارکردگی یکساں نہیں رہی۔ پہلے چار ماہ میں انکم ٹیکس کی وصولی 1.861 ٹریلین روپے رہی، جو 2.009 ٹریلین روپے کے ہدف سے 148 ارب روپے کم ہے۔ دوسری طرف سیلز ٹیکس سے 1.524 ٹریلین روپے حاصل ہوئے، جو 1.448 ٹریلین روپے کے ہدف سے 76 ارب روپے زیادہ ہیں اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی 427 ارب روپے رہی، جو 449 ارب روپے کے ہدف سے 22 ارب کم ہے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 278 ارب روپے کے ہدف تک پہنچ گئی۔

ایف بی آر نے جولائی تا اکتوبر 265 ارب روپے کے ریفنڈز اور ریبیٹس بھی جاری کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 206 ارب روپے سے تقریباً 28.64 فیصد زیادہ ہیں۔ ادارے کے مطابق 31 اکتوبر تک 7.660 ملین انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی وقت تک 5.941 ملین گوشوارے جمع ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے ریٹرنز کی تعداد میں 28.93 فیصد اضافہ ہوا۔

حکومت نے پورے مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کا ریونیو ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے۔ پہلے چار ماہ کی کمی اس ہدف کے حصول کے لیے آنے والے مہینوں میں وصولیوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔ سیلز ٹیکس کی نسبتاً بہتر کارکردگی کے باوجود انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں ہدف سے کمی مجموعی محصولات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی زیادہ وصولیاں وفاقی مالیات میں کچھ سہارا دے رہی ہیں، تاہم یہ ایف بی آر کی قابل تقسیم ٹیکس وصولیوں سے الگ وفاقی آمدن ہے۔